ڈونلڈ رمزفیلڈ کون؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ اور عراق پر حملے کے معمار ڈونلڈ رمز فیلڈ کا استعفی منظور کر لیا گیا ہے۔ چوالیس سال تک مختلف سیاسی عہدوں پر کام وا لے ڈونلڈ رمز فیلڈ ڈیموکریٹ پارٹی کی انتخابی جیت کا پہلا نشانہ بنے۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ مشکل صورتحال میں بچ نکلنے کا فن جانتے تھے۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ نےحکومت میں رہنے کے ہنر کے بارے میں معقولوں پر مشتمل ایک کتابچہ بھی تحریر کیا ہے جو امریکی انتظامیہ کے حلقوں میں بہت مقبول ہے۔ اس کتابچہ میں ڈونلڈ رمزفیلڈ نے لکھا ہے کہ اگر آپ پر تنقید نہ ہو رہی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنا کام صیح طور پر نہیں کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ نے چوالیس سالہ سیاسی کیریئر میں مختلف حکومتی عہدوں پر کام کیا اور یہ دوسرا موقع تھا جب انہوں نے وزارت دفاع کا قلمدان سنھبالا تھا۔اس سے پہلے صدر فورڈ کے دور میں امریکہ کے سب سے کم عمر وزیر دفاع رہ چکے تھے۔ ڈونلڈ رمز فیلڈ پہلی مرتبہ انیس باسٹھ میں امریکی ایوان نمائندگان کے ممبر منتخب ہوئے اور اس کے بعد نکسن دور اقتدار میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ۔ نیٹو میں سفارت کے علاوہ وہ صدر فورڈ کے چیف آف سٹاف رہنے کے بعد وزیر دفاع مقرر کیے گئے۔ ڈونلڈ رمز فیلڈ ہمیشہ ایک متنازعہ شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔سابق نائب وزیر دفاع پاؤل ولفووٹز کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ جہاں جاتے ہیں وہاں ایک طوفان برپا کر دیتے ہیں۔ ڈونلڈ رمز فیلڈ نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران ہمیشہ دفاع سے متعلق شعبوں میں فرائض سر انجام دیے ہیں۔ کئی لوگوں نے صدام حسین کو اسلحہ بیجنے کا بھی الزام لگاتے رہے ہیں۔ سیاسی کیریئر کے ساتھ انہوں نے کئی بڑے کاروباری ادارے کی بھی سربراہی کی۔ ڈونلڈ رمز فیلڈ اس کو وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ عراق میں مرنے والے فوجیوں کے ورثا کو ان سے منسوب بھیجے جانے والے خطوں پر ان کے دستخط اصلی نہیں بلکہ ایک مشین کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ گیارہ ستمبر 2001 میں ٹون ٹاور پر دہشت گرد حملے کے بعد امریکہ نے طالبان حکومت کو گرانے کا فیصلہ کیا تو اس کام کی ذمہ داری رمزفیلڈ کو سونپی گئی۔ افغانستان میں ابتدائی کامیابیوں کی وجہ رمز فیلڈ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ عراق پر امریکی حملے کے معمار جانے جاتے ہیں۔ عراق کی حکومت اور القاعدہ کے آپس میں تعلقات کی بنیاد حملہ کرنے کے بعد ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کہا کہ ان کے نظر سے کوئی ایسی ٹھوس شہادت نہیں گزری ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ صدام حسین کے القاعدہ کے روابط تھے۔ ڈونلڈ رمز فیلڈ ایک ’کم مگر جدید فوج‘ کے نظریے کے بانے سمجھے جاتے ہیں اور عراق میں صدام حکومت کو گرانے کے بعد عراقی فوج کو یکسر ختم کر دینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ عراق پر امریکی حملے کی مخالفت کرنے والے یورپی ممالک کو ’پرانا یورپ‘ قرار دینے والے ڈونلڈ رمزفیلڈ کے بارے سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کاکہنا ہے کہ انہوں نے رمز فیلڈ سے زیادہ بے رحم شخص اپنی رندگی میں نہیں دیکھا۔ | اسی بارے میں ’وائٹ ہاؤس میں مرغی کی کڑ کڑ‘02 June, 2005 | آس پاس ’گوانتاموبے: بات کی اجازت نہیں‘02 November, 2005 | آس پاس رمزفیلڈ کے استعفے کا اعلان08 November, 2006 | آس پاس ایوان نمائندگان، ڈیموکریٹس کے پاس08 November, 2006 | آس پاس امریکی عوام کی فتح، بش کی مایوسی08 November, 2006 | آس پاس امریکی انتخابات: کون جیتا، کون ہارا؟08 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||