BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 June, 2005, 02:14 GMT 07:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وائٹ ہاؤس میں مرغی کی کڑ کڑ‘
News image
شمالی کوریا کے سرکاری ریڈیو نے امریکی انتظامیہ کی دو اہم ترین شخصیات کا مضحکہ اڑانے کے لیے ظریفانہ خاکوں پر مبنی ایک پروگرام نشر کیا ہے۔

اختتامِ ہفتہ پر نشر ہونے والے اس پروگرام میں اداکاروں نے امریکی وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ اور امریکی وزیرِ خارجہ کنڈولیزا رائس کے درمیان بظاہر جاری چپقلش کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا۔

پروگرام میں یہ دونوں رہنما صدر بش کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مزاحیہ انداز میں ایک دوسرے کی ہنسی اڑاتے ہیں۔

پیانگ یانگ کے براڈکاسٹنگ سٹیشن نے اس پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا یہ خاکہ ایک امریکی میگزین میں چٹکلے دیکھ کر بنایا گیا ہے۔

یہ پروگرام جس کا نام ’وائٹ ہاؤس میں مرغی کی کڑ کڑ‘ ہے پہلا ایسا پروگرام ہے جس میں شمالی کوریا کے میڈیا نے طربیہ نوٹس کا استعمال کیا ہے۔

کنڈوالیزرائس نے اس سال جنوری میں شمالی کوریا کا نام چھ ’جابرانہ اندازِ حکومت والے‘ ممالک کی فہرست میں رکھا تھا۔ پرواگرام کے خاکے میں ان کا تعارف بطور ’مرغی‘ کرایا گیا ہے جو وائٹ ہاؤس میں بڑے ’طمطراق‘ سے چل پھر رہی ہے۔

رمزفیلڈ کے کردار کے بارے میں خاکے میں بتایا گیا ہے کہ صدر بش کے دورِ اقتدار کے پہلے چار برس وہ ’حکمراں مرغا‘ تھے مگر اب وہ عمر رسیدہ مرغ بن گئے ہیں اور دبے دبے سے رہتے ہیں۔

ان دونوں ’جانوروں‘ میں اتنی مخاصمت ہے کہ دونوں کی لڑائی چھڑانے کے لیے صدر بش کا کردار ادا کرنے والے اداکار کو مداخلت کرنی پڑتی ہے اور وہ کہتے ہیں ’مرغا مرغے سے لڑنے کی بجائے مرغی سے لڑ رہا ہے۔‘

جنوبی کوریا کے ایک اہم اخبار نے یہ خاکہ نشر ہونے کے اگلے روز اس پر تنقید کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد