’وائٹ ہاؤس میں مرغی کی کڑ کڑ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا کے سرکاری ریڈیو نے امریکی انتظامیہ کی دو اہم ترین شخصیات کا مضحکہ اڑانے کے لیے ظریفانہ خاکوں پر مبنی ایک پروگرام نشر کیا ہے۔ اختتامِ ہفتہ پر نشر ہونے والے اس پروگرام میں اداکاروں نے امریکی وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ اور امریکی وزیرِ خارجہ کنڈولیزا رائس کے درمیان بظاہر جاری چپقلش کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا۔ پروگرام میں یہ دونوں رہنما صدر بش کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مزاحیہ انداز میں ایک دوسرے کی ہنسی اڑاتے ہیں۔ پیانگ یانگ کے براڈکاسٹنگ سٹیشن نے اس پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا یہ خاکہ ایک امریکی میگزین میں چٹکلے دیکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہ پروگرام جس کا نام ’وائٹ ہاؤس میں مرغی کی کڑ کڑ‘ ہے پہلا ایسا پروگرام ہے جس میں شمالی کوریا کے میڈیا نے طربیہ نوٹس کا استعمال کیا ہے۔ کنڈوالیزرائس نے اس سال جنوری میں شمالی کوریا کا نام چھ ’جابرانہ اندازِ حکومت والے‘ ممالک کی فہرست میں رکھا تھا۔ پرواگرام کے خاکے میں ان کا تعارف بطور ’مرغی‘ کرایا گیا ہے جو وائٹ ہاؤس میں بڑے ’طمطراق‘ سے چل پھر رہی ہے۔ رمزفیلڈ کے کردار کے بارے میں خاکے میں بتایا گیا ہے کہ صدر بش کے دورِ اقتدار کے پہلے چار برس وہ ’حکمراں مرغا‘ تھے مگر اب وہ عمر رسیدہ مرغ بن گئے ہیں اور دبے دبے سے رہتے ہیں۔ ان دونوں ’جانوروں‘ میں اتنی مخاصمت ہے کہ دونوں کی لڑائی چھڑانے کے لیے صدر بش کا کردار ادا کرنے والے اداکار کو مداخلت کرنی پڑتی ہے اور وہ کہتے ہیں ’مرغا مرغے سے لڑنے کی بجائے مرغی سے لڑ رہا ہے۔‘ جنوبی کوریا کے ایک اہم اخبار نے یہ خاکہ نشر ہونے کے اگلے روز اس پر تنقید کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||