BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 November, 2005, 04:03 GMT 09:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گوانتاموبے: بات کی اجازت نہیں‘
گوانتاموبے جیل کیمپ میں چوبیس قیدیوں کو زبردستی کھانا کھلایا جاتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے نگرانوں کو گوانتانوموبے کے امریکی جیل کیمپ میں قیدیوں سے بات چیت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کہا کہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کو قیدیوں سے بات چیت کی اجازت دی جا چکی ہے اور وہ کسی اور کو یہ اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

امریکہ نے بغیر عدالتی کارروائی کے سنکڑوں قیدیوں کو گوانتانوموبے کی کیمپ جیل میں حراست میں رکھا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے افسر نگران پاول ہنٹ نے کہا ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔

مسٹر رمزفیلڈ نے کہا قیدیوں کی بھوک ہڑتال کو میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔

حقوق انسانی کے نگرانوں نے قیدیوں سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے گوانتانو مو بے جیل کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ چوبیس قیدیوں کو زبردستی کھانا کھلایا جاتاہے۔

اقوام متحدہ کی سہ رکنی کمیٹی کے ایک رکن لیلیٰ زرگوی سے جب پوچھا گیا کہ کیا گوانتانوموبے امریکہ کے دوہرے معیار کو نمایاں نہیں کرتا تو انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ امریکی موقف امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے اور ان کو امید ہے کہ امریکہ تعاون کرے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد