’گوانتاموبے: بات کی اجازت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے نگرانوں کو گوانتانوموبے کے امریکی جیل کیمپ میں قیدیوں سے بات چیت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کہا کہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کو قیدیوں سے بات چیت کی اجازت دی جا چکی ہے اور وہ کسی اور کو یہ اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ امریکہ نے بغیر عدالتی کارروائی کے سنکڑوں قیدیوں کو گوانتانوموبے کی کیمپ جیل میں حراست میں رکھا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے افسر نگران پاول ہنٹ نے کہا ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ مسٹر رمزفیلڈ نے کہا قیدیوں کی بھوک ہڑتال کو میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حقوق انسانی کے نگرانوں نے قیدیوں سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے گوانتانو مو بے جیل کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ چوبیس قیدیوں کو زبردستی کھانا کھلایا جاتاہے۔ اقوام متحدہ کی سہ رکنی کمیٹی کے ایک رکن لیلیٰ زرگوی سے جب پوچھا گیا کہ کیا گوانتانوموبے امریکہ کے دوہرے معیار کو نمایاں نہیں کرتا تو انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ امریکی موقف امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے اور ان کو امید ہے کہ امریکہ تعاون کرے گا۔ | اسی بارے میں امریکہ کے ’خفیہ‘ حراست خانے29 June, 2005 | آس پاس فوج بدسلوکی سے باز رہے: سینیٹ06 October, 2005 | آس پاس ’محافظ نے قرآن کو ٹھوکر ماری‘04 June, 2005 | آس پاس ’کسی صورت رہائی نہیں ملے گی‘25 February, 2004 | آس پاس ’ایمنسٹی کی رپورٹ لغو ہے‘ بش01 June, 2005 | آس پاس گوانتانامو میں قیدیوں کی ہڑتال09 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||