BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 November, 2006, 10:15 GMT 15:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی عوام کی فتح، بش کی مایوسی

اگر صدر بش ابو غریب کے واقعات کے بعد بھی مایوس ہوجاتے تو آج کی مایوسی سے بچ سکتے تھے
امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے انتخابات کے نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایوان میں حزب اختلافات کی ڈیموکریٹک پارٹی کو توقع سے زیادہ اکثریت حاصل ہوچکی ہے جبکہ کچہ ریاستوں کے نتائج تادم تحریر باقی تھے۔ جبکہ سینیٹ میں اکثریت کے لیئے اسے چھ سیٹوں کی ضرورت تھی جن میں سے تین وہ حاصل کرچکی تھی اور کچھ ریاستوں کے نتائج باقی تھے۔

صدر بش نے انتخابی نتائج پر اپنی مایوسی ظاہر کی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کہ ان انتخابات کو نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں صدر بش کی عراق اور افغان پالیسی پر ایک ریفرنڈم تصور کیا جارہا تھا اور اس میں اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کو بظاہر شکست ہوئی ہے لیکن حقیقی شکست صدر بش کی ہے اور وہ بھی امریکی عوام کے ہاتھوں، جن کا نام لے کر وہ افغانستان اورعراق میں اب تک ہزاروں افغانوں، عراقیوں اور امریکیوں کو مروا چکے ہیں اور مزید کو مروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

قاعدے سے صدر بش کو اس وقت مایوس ہونا چاہیئے تھا جب افغانستان میں انہیں اسامہ بن لادن کو پکڑنے میں ناکامی ہوئی تھی اور عراق میں وسیع تباہی والے ہتھیاروں کی غیرموجودگی کا پتہ چلا تھا۔

وہ اس وقت بھی مایوس ہوسکتے تھے جب افغانستان میں ان کے کاسہ لیس رشید دوستم جیسے لوگوں کے ہاتھوں بہت سارے مبینہ طالبان قیدی ناقابل تصور ظلم وتشدد کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔

اگر صدر بش ابو غریب کے واقعات کے بعد بھی مایوس ہوجاتے تو اس مایوسی سے بچ سکتے تھے جو آج انہیں محسوس ہورہی ہے۔ لیکن وسیع اختیارات کی، جو امریکی صدر کو حاصل ہیں، سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ اگر وہ ذرا سی غیرذمہ داری کا مرتکب ہو تو بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو سمجھتے ہیں کہ صدر بش سے افغانستان اور عراق کے سلسے میں یہ غلطی سرزد ہوئی ہے۔

عام خیال یہ ہے کہ ان انتخابات کے بعد صدر بش اگرچہ مزید دو سال وائٹ ہاؤس میں رہیں گے لیکن ان کی حیثیت ایک معذور صدر جیسی ہوگی جسے انگریزی اصطلاح میں ’لیم ڈک‘ کہتے ہیں اور وہ اپنی من مانی نہیں کرسکیں گے جیسے کہ اب تک کرتے آئے ہیں۔

سہارا نہ ملا
 اگرچہ صدر بش کی پالیسیوں کی غیرمقبولیت کا شہرہ بہت پہلے سے تھا اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ان انتخابات سے صرف تین روز پہلے ایک عراقی عدالت کی طرف سے صدام کی سزائے موت کے فیصلے کے اعلان سے صدر بش کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا ملے گا لیکن یہ بات صحیح ثابت نہیں ہوئی۔

میں چونکہ امریکی حکمرانی کےقوائد و ضوابط اور طور طریقوں سے اچھی طرح واقف نہیں ہوں اس لیئے اس کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا تاہم یہ بات طے ہوگئی ہے کہ بقول ایک آنجہانی امریکی صدر ابراہم لنکن کے ’کچھ لوگوں کو کچھ دنوں تک بیوقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن سارے لوگوں کو ہمیشہ بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا‘۔

امریکی عوام اپنے تجربات کی روشنی میں اس حقیقت کو سمجھ گئے ہیں کہ اب تک عراق ، افغانستان اور بعض دوسرے ملکوں سے متعلق صدر بش کی انتظامیہ نے جو جارحانہ طرز عمل اختیار کر رکھا ہے وہ نہ ان کے لیئے اچھا ہے اور نہ اس سے عالمی امن کے قیام میں مدد ملے گی جس کے دعوے صدر بش اور ان کے حواری ڈک چینی، رمزفیلڈ اور کونڈلیزا رائس کرتے رہتے ہیں۔

انتخابات
صدر بش نے انتخابی نتائج پر اپنی مایوسی ظاہر کی ہے

اگرچہ صدر بش کی پالیسیوں کی غیرمقبولیت کا شہرہ بہت پہلے سے تھا اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ان انتخابات سے صرف تین روز پہلے ایک عراقی عدالت کی طرف سے صدام کی سزائے موت کے فیصلے کے اعلان سے صدر بش کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا ملے گا لیکن یہ بات صحیح ثابت نہیں ہوئی۔ اگر عوام کو ایک بار یہ احساس ہوجائے کہ انہیں مذہب اور قومیت کے نام پر ورغلا کر یا عدم تحفظ کا جھانسہ دے کر جنگ کی آگ میں جھونکا جارہا ہے تو پھر ایسی ترکیبوں سے عوام کے فیصلے نہیں بدلتے۔

یہ کہنا تو بہت مشکل ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں افغانستان اور عراق سے متعلق صدر بش کی پالیسیوں میں فوری طور پر کوئی نمایاں تبدیلی آئے گی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ملکوں میں یا دوسرے ملکوں میں وہ تمام لوگ لرزہ بہ اندام ہوں گے جن کا اقتدار اپنے عوام کی حمایت کے بجائے صدر بش کی سرپرستی کا مرہون منت ہے۔

ہم ماضی میں کیوبا کے باتیستا، ویتنام کے باؤدائی کاؤ کی وغیرہ اور فلپائن کے مارکوس کا حشر دیکھ چکے ہیں مجھے امید تو نہیں ہے کہ صدر بش اپنے ان دوستوں کو بے یار و مددگار چھوڑدیں گے لیکن امریکی حکمرانوں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ اپنی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیئے اس کا بوجھ ہلکا کرنے میں کچھ زیادہ تکلف نہیں کرتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد