کانگریس انتخاب اور مسلمان امیدوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سیاست کے ایک ایسے موڑ پر جب حکمرانوں کے خیال میں انہیں عالمی سطح پر تہذیبوں کے تصادم کا سامنا ہے، کانگریس کے ایوانوں پر پہلی مرتبہ ایک مسلمان امیدوار دستک دے رہے ہے۔ سات نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ریاست منیسوٹہ سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاہ فام امیدوار کیتھ ایلیسن اگر کانگریس کا انتخاب جیت جاتے ہیں تو امریکی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوگا کہ کوئی مسلمان امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشستوں پر بیٹھے گا۔ تینتالیس سالہ کیتھ ایلیسن ریاست منیسوٹہ سے ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ ریاست مینیسوٹہ کی مقامی سیاست میں کچھ برسوں سے سرگرم رہے ہیں اور صدر بش کی عراق پالیسی کی کھلی مخالفت کیلئے جانے جاتے ہیں۔ کیتھ ایلیسن کا کہنا ہے کہ وہ ایک ’مذہبی امیدوار‘ کے طور پر نہیں بلکہ اپنی عوامی پالیسوں کے زور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کے نزدیک، امریکی کانگریس میں ان کے انتخاب سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ امریکہ میں رنگ و نسل اور مذہب کے تعصب کے باوجود، محنتی اور باصلاحیت لوگوں کے لیئے اب بھی جگہ ہے۔ امریکی سیاست میں مسلمانوں کے کردار کے محقق ڈاکٹر زاہد بخاری کا کہنا ہے کہ کیتھ ایلیسن کا جیت جانا امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کے لیئے نفسیاتی طور پر بڑاحوصلہ افزا ہوگا۔واشنگٹن میں قائم جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ امریکی ایوانِ نمائنگان میں ایک مسلمان کی موجودگی سے فرق پڑے گا۔ لیکن وہ خبردار کرتے ہیں کہ اس سے مسلمانوں کے بارے میں امریکی پالیسیوں اور رویوں میں یکایک تبدیلی کی توقع رکھنا بھی خوش فہمی ہوگی۔ ریاست منیسوٹہ میں اکثریت سفید فام امریکیوں کی ہے لیکن ان کا زیادہ جھکاؤ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے کافی لبرل لوگ ڈیموکریٹک امیدوار ہونے کی وجہ سے ان کی بڑھ چڑھ کر حمایت کر رہے ہیں۔شہر مینیاپلس میں اکثر لوگوں کی رائے میں یہ ایک اچھی بات ہے کہ امریکہ جیسے کثیرالثقافتی ملک میں اب سفید فام امریکیوں کے علاوہ دوسرے رنگ و نسل کے لوگ بھی سامنے آ رہے ہیں۔ کیتھ ایلیسن ایک کیتھلک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کالج کے زمانے میں انہوں نے نسل پرستی کے بارے میں تحقیق کی۔ بعد میں وہ اسلام کے برابری کے نظریئے سے متاثرہو کر مسلمان ہوگئے ۔ ایک وقت میں وہ امریکہ میں سیاہ فام امریکیوں کی شدت پسند تنظیم ’دی نیشن آف اسلام‘ کے متنازعہ رہنما لوئی فراخان کے قریب رہ چکے ہیں ۔امریکہ میں کافی لوگ ’دی نیشن آف اسلام‘ کو سیاہ فام امریکیوں کی انتہا پسند تنظیم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس گروپ پر یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور نوجوانوں کو تشدد کی طرف راغب کرنے کے الزامات ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران کیتھ ایلیسن کے حریفوں نے بار بار ان کے اس ماضی پر سوال اٹھائے ہیں اور انہیں ایک منتخب سیاسی عہدے کیلئے ناموزوں شخصیت قرار دیا ہے۔ ان الزامات کے جواب میں کیتھ ایلیسن نے بی بی سی کو بتایاکہ انہوں نے کبھی بھی تشدد کا فروغ نہیں چاہا بلکہ ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔ انہیں پوری امید ہے کہ ان کے حلقے کے ووٹر ان کے مخالفین کی منفی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ | اسی بارے میں امریکی انتخابات، اسامہ کا استعمال21 October, 2006 | آس پاس ایذا رسانی کی بحث میں بش کود پڑے28 October, 2006 | آس پاس ’عراق میں امریکی کامیابی ممکن ہے‘25 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||