’عراق میں امریکی کامیابی ممکن ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی کامیابی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اہم حصہ ہے۔ بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک اخباری کانفرنس میں صدر بش نے عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کو ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے ساتھ جوڑا اور کہا کہ اگر امریکہ نے عراق میں کامیابی حاصل نہ کی تو انتہا پسند عناصر عراق کو اپنا مرکز بنا کر ’سپین سے لے کر انڈونیشیا تک ایک بنیاد پرست سلطنت قائم کر دیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر عراق ایک ناکام ریاست بنی تو شدت پسند تیل کے ذخائر پر قابض ہو کر تازہ حملے شروع کر سکیں گے۔ صدر بش نے عراق کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے معلوم ہے کہ بہت سے امریکی اس سے مطمئن نہیں ہیں اور میں خود بھی مطمئن نہیں ہوں لیکن ہم وہاں ابھی بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکہ کے مقاصد بدلے نہیں ہیں لیکن وہ اپنی حکمت عملی میں تبدیلیاں لا رہا ہے۔ صدر بش نے کہا کہ امریکہ عراق پر حد سے زیادہ دباؤ نہیں ڈالے گا تاہم وہ عراقی حکومت کو یہ واضح کر چکے ہیں کہ مسلح ملیشیا گروہوں پر کنٹرول لازمی ہے اور امریکہ کے صبر کرنے کی بھی ایک حد ہے۔ اس موقع پر امریکی صدر نے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ ایک قابل شخص ہیں۔ |
اسی بارے میں عراق: 6 امریکی اور 8 دیگر ہلاک24 October, 2006 | آس پاس ’عراق میں امریکی کامیابی ممکن ہے‘24 October, 2006 | آس پاس عراق نہیں چھوڑیں گے: صدر بش 22 October, 2006 | آس پاس عراق میں امریکی ’تکبر اور بیوقوفی‘22 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||