BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 October, 2006, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں امریکی ’تکبر اور بیوقوفی‘
عراق میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت میں پھر اضافہ ہورہا ہے
امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار البرٹو فرنانڈز نے کہا ہے کہ امریکہ نے عراق میں ’تکبر اور بیوقوفی‘ کا ثبوت دیا ہے۔ فرنانڈز نے عربی ٹیلی ویژن الجزیرہ کو بتایا کہ دنیا ’عراق میں ناکامی دیکھ رہی‘ ہے۔

البرٹو فرنانڈز عربی زبان فراوانی سے بولتے ہیں اور وہ وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ کے امور سے متعلق پبلِک ڈِپلومیسی کے ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے کہا: ’یہ صرف امریکہ کی ہی ناکامی نہیں ہے، بلکہ یہ پورے خطے کے لیے تباہی ہے۔‘

’بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں (عراق کے معاملے میں) سخت تنقید کا جواز ہے کیوں کہ بلاشبہ عراق میں امریکہ کی جانب سے تکبر اور بیوقوفی تھی۔‘

فرنانڈز نے بتایا کہ امریکہ اب ’عراق میں القاعدہ‘ تنظیم کے علاوہ کسی بھی مزاحمتی گروہ سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ فرقہ وارانہ تشدد کو ختم کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا: ’ہم سب بات چیت کے لیے تیار ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ، بالآخر، عراق میں ہلاکتیں اور جہنم کا حل عراقیوں کی قومی مفاہمت سے جڑا ہوا ہے۔‘

 یہ صرف امریکہ کی ہی ناکامی نہیں ہے، بلکہ یہ پورے خطے کے لیے تباہی ہے۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ سخت تنقید کے لیے جگہ ہے کیوں کہ بلاشبہ عراق میں امریکہ کی جانب سے تکبر اور بیوقوفی تھی۔
البرٹو فرنانڈز
تاہم امریکی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں البرٹو فرنانڈز کے بیان سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان شان میکورمیک نے اس بات سے انکار کیا کہ امریکہ نے عراق میں ’تکبر اور بیوقوفی‘ کا ثبوت دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ البرٹو فرنانڈز کے الفاظ کو غلط طور پر پیش کیا گیا ہے۔

فرنانڈز کا بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکی صدر جارج بش اعلیٰ فوجی کمانڈروں سے عراق میں تشدد پر قابو پانے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت پر بات چیت کررہے ہیں۔

اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق بش انتظامیہ ایک عراقی حکومت کے لیے ایک ٹائم ٹیبل تیار کررہی ہے جس کے اہم مقاصد میں عراق میں مزاحمت کاروں کو غیرمسلح کرنا، استحکام پیدا کرنا اور امریکی فوجیوں کے رول میں کمی کرنا شامل ہیں۔

اخبار کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ عراقی خود کنٹرول سنبھالیں اور ’ہم وہاں ہمیشہ نہیں رہ سکتے۔‘

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نیکول گیلیمارڈ نے اخبار کا رپورٹ کو غلط قرار دیا ہے لیکن یہ بھی کہا کہ ’ہم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل نئی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔‘

دریں اثناء برطانوی دفتر خارجہ میں ایک وزیر کِم ہاولز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عراق کی سکیورٹی فورسز ایک سال کے اندر وہ تمام ذمہ داریاں سنبھال لیں گے جو ابھی امریکی فوج کے تحت ہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز ویسٹ ہیڈ کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی حکمت عملی میں سرکاری سطح پر کوئی تبدیلی نہیں ہے، تاہم ’تبدیلی‘ کی بات ہر زبان پر ہے۔

نومبر کے ضمنی انتخابات سے پہلے ایک نئی رائے شماری کے مطابق دو تہائی امریکی عوام یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ عراق میں جنگ ہار رہا ہے۔

عراق کا دلدلی علاقہ
صدام کے دور میں دلدلی علاقے کو صحرا بنا دیا گیا
نئے سربراہ کا معمہ
عراق میں القاعدہ کا نیا سربراہ مصری جیل میں؟
عراقی کرفیوسکیورٹی پر تشویش
عراق: دن کے کرفیو کے وقت میں مزید اضافہ
عراقی فوجیمتحد عراق؟
فرقہ وارانہ تشدد اور تقسیم کی باتیں
مردہ خانے کم پڑ گئے
بغداد کے مردہ خانوں میں لاشوں کی تعداد بڑھ گئی
عراق میں خونریزی
ہلاکتیں، مزاحمت: اعداد و شمار کے آئینے میں
جسمانی تشددتشدد میں اضافہ
’عراق میں جسمانی تشدد صدام دور سے زیادہ ہے‘
اسی بارے میں
’امریکہ حالتِ جنگ میں ہے‘
05 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد