’امریکہ حالتِ جنگ میں ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی قوم آج بھی حالتِ جنگ میں ہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعے کی پانچویں برسی کے موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کو مکمل فتح کے علاوہ کچھ اور منظور نہیں ہے۔ صدر بش نے کہا کہ القاہدہ جو کے امریکی تہذیب کے لیئے خطرہ ہے امریکہ کی مسلسل جنگ کے باعث اب کافی حد تک کمزور پڑ چکی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ کبھی بھی ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ صدر بش نے یہ بات چیت وائٹ ہاؤس کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری جنگ کے لیے قومی حکمتِ عملی پر جاری کیے گیئے تازہ ترین دستاویزات جاری کرتے ہوئے کی ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی سے متعلق ان دستاویزات میں دہشت گردی کے معنی بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ سیاسی بیگانگی کا نتیجہ ہے جس میں اسلام کو موڑ تور کر پیش کیا گیا ہے اور جسے ثقافتوں کی سازش اور غلط بیانی کہا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں دہشتگردی کے خلاف نئے اقدمات30 June, 2005 | صفحۂ اول ’انسانیت کے خلاف جنگ‘: بش07 October, 2005 | صفحۂ اول امریکہ: جاسوسی کی اجازت پرطوفان 16 December, 2005 | صفحۂ اول بُش کی حماس کو تنبیہ28 January, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||