بُش کی حماس کو تنبیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بُش نے کہا ہے کہ اگر حماس نے اپنا عسکری شعبہ ختم نہ کیا اور اسرائیل کے بارے میں اپنے عزائم نہ ترک کیے تو فلسطینیوں کو ملنے والی امریکی امداد کم ہو سکتی ہے۔ دریں اثنا فلسطینیوں کی جماعت فتح کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے فلسطینی پارلیمان کے انتخبات میں حماس کے ہاتھوں شکست کے بعد صدر محمود عباس کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ صدر بُش نے ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو میں کہا کہ جب تک حماس ان کے مطالبات پر عمل نہیں کرتا امریکہ اس کے رہنماؤں سے بات چیت نہیں کرے گا اور امدادی پیکج منظور نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی ایسی حکومت کو امداد نہیں دے سکتا جو ان کے بقول ان کے ان کے ایک حلیف اور دوست (اسرائیل) کی تباہی کا پرچار کرتی ہو۔ اس سے قبل حماس کے سربراہ محمود ظاہر کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت دہشت گردی اور تشدد پر یقین نہیں رکھتی بلکہ انہوں نے اپنے دفاع میں بندوق اٹھائی ہے۔ فلسطینی انتظامیہ نے کہا ہے کہ اگر بیرونی ممالک نے ان کی امداد بند کر دی تو وہ جلد مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ فتح پارٹی مظاہرین نےگاڑیوں کو نذر آتش کیا، ہوائی فائرنگ کی اور فتح کے قائدین پر بدعنوانی کے الزامات لگاتے ہوئے صدر محمود عباس کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ فتح کو حماس کے ساتھ حکومت میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ خان یونس کے علاقے میں حماس اور فتح کے کارکنوں میں ٹکراؤ بھی ہوا اور کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ | اسی بارے میں فلسطینی انتخابات میں حماس کی برتری 25 January, 2006 | صفحۂ اول حماس سے مذاکرات نہیں: اسرائیل27 January, 2006 | صفحۂ اول حماس کو حکومت بنانے کی دعوت27 January, 2006 | آس پاس حماس کیا ہے؟26 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||