فلسطینی انتخابات میں حماس کی برتری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم حماس کو فلسطینی پارلیمان کےانتخابات میں برتری حاصل ہے۔ اس سے پہلے سامنے آنے والے انتخابی جائزوں میں برسراقتدار فتح پارٹی کو چھیالیس فیصد ووٹوں کے ساتھ فاتح قرار دیا جا رہا تھا۔ رملہ اللہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کے مطابق انتخابات کے کچھ بھی نتائج نکلیں یہ طے ہو گیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں فتح اب واحد سیاسی قوت نہیں ہے۔ نامہ نگار کے مطابق حماس عوامی سطح پر اپنی حمایت کے لیے باقاعدہ سیاسی حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ انتخابات میں حماس کی شمولیت سے اسرائیل، امریکہ اور یورپ میں کافی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ وہاں حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور اس کے خلاف پابندی عائد ہے۔
حماس اور فتح دونوں نے کہا ہے کہ اگر کسی جماعت کو واضح برتری حاصل نہ ہوئی تو وہ مخلوط حکومت بنانے پر غور کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹنگ کی شرح تہتر فیصد رہی۔ غرب اردن میں ستر اعشاریہ چھ فیصد اور غزہ میں چھہتر اعشاریہ آٹھ فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ مبصرین نے انتخابات کو پرامن قرار دیا اور یورپی یونین کے ایک اہلکار کے مطابق فلسطینی علاقوں میں ووٹنگ باقی عرب دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ بیلٹ بکس کی حفاظت کے فلسطینی پولیس تعینات کی گئی تھی جبکہ فلسطینی عسکریت پسندوں نے انتخابات میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پندرہ لاکھ فلسطینی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں ووٹنگ کے ایک ہزار مراکز قائم کیے گئے تھے۔ مشرقی یروشلم میں ایک لاکھ اہل ووٹروں میں سے صرف چھ ہزار تین سو کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی جبکہ باقی کو یروشلم سے باہر جانا پڑا۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ حماس کے ساتھ مخلوط حکومت بننے کی صورت میں بھی وہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ | اسی بارے میں فلسطینی انتخاب میں جوش و خروش 25 January, 2006 | آس پاس فلسطین میں دس سال بعد ووٹنگ 25 January, 2006 | آس پاس ’اسرائیلی سرحدوں کا تعین ضروری ہے‘24 January, 2006 | آس پاس محمود عباس دوبارہ صدر نہیں بنیں گے16 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||