BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 January, 2006, 17:24 GMT 22:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینی انتخاب میں جوش و خروش
فلسطین میں ووٹنگ
ووٹنگ کےدوران سکیورٹی کے سخت انتطامات کیے گئے ہیں
فلسطین میں دس سال کے تعطل کے بعد قانون ساز اسمبلی کےانتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

لوگوں میں ان انتخابات کے متعلق کافی جوش و خروش پایا گیا اور شام ہونے تک سردی کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے آتے رہے۔

انتخابات میں ٹرن آؤٹ کافی اچھا رہنے کی توقع ہے اور حکام کے مطابق یہ ساٹھ فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ بہت سے فلسطینی اس بات پر خوش نظر آئے کہ چھ ماہ کی تاخیر کے بعد آخر کار انتخابات ہو رہے ہیں۔

انتخابات کی فضا پرامن رہی جبکہ حریف جماعتیں پولنگ سٹیشنوں کے باہر ووٹ مانگنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھیں۔ تاہم ابھی نتائج آنے کا مرحلہ باقی ہے جس کے بعد اصل حالات کا پتہ چل سکے گا۔

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں اور مبصرین نے بھی ان انتخابات کو پرامن قرار دیا ہے۔ ایک یورپی مبصر نے کہا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں ووٹنگ باقی عرب دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔

 غزہ اور مغربی کنارے میں ووٹنگ باقی عرب دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔

تاہم اسرائیل کے زیر قبضہ مشرقی یروشلم میں ووٹنگ کا تناسب قدرے کم رہا۔ اس علاقے میں ووٹروں کو براہ راست پولنگ سٹیشن پر جا کر ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں تھی بلکہ انہیں مخصوص ڈاکخانوں میں ووٹ ڈاک کے ذریعے بھیجنے تھے۔

فلسطین میں انتخابات
فلسطین میں دس سال بعد انتخابات ہوئے ہیں

فتح پارٹی کو مزاحمت پسند فلسطینی گروہ حماس کی جانب سے شدید مقابلے کا سامنا ہے۔ ان انتخابات میں حماس نے پہلی مرتبہ اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

پولنگ کےدوران سکیورٹی کے سخت انتطامات کیے گئے۔ حماس کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے سے اسرائیل، امریکہ اور یورپ میں سخت تشویش پائی جاتی ہے جہاں اس پر شدت پسند تنظیم ہونے کے الزامات میں پابندی عائد ہے۔

فلسطینی رہنما محمود عباس نے لوگوں کو اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی تلقین کرتے ہوئے سکیورٹی حکام سے کہا کہ وہ پولنگ کے درمیان امن قائم رکھنے کے لیے مستعد رہیں۔

رملہ اللہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بہت سےفلسطینیوں کا خیال ہے کہ فتح اسرائیل کے ساتھ امن کے قیام اور فلسطینی علاقوں کی اقتصادی حالت بہتر بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

فلسطینیوں کا خیال ہے فتح پارٹی نے اپنی نااہلی اور بدعنوانیوں کے باعث معیشت کو تباہ کر دیا۔

ہزاروں فلسطینیوں کو بیلٹ بکسوں کی حفاظت پر معمور کیا گیا جبکہ حریف شدت پسندوں نے ووٹنگ کے دوران امن قائم رکھنے کی یقین دہانی کروائی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد