یروشلم: فلسطینیوں کومشروط اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم میں اس شرط پر انتخابی مہم چلانے کی اجازت دے دی ہے کہ وہ یہ مہم اسرائیلی پولیس کی اجازت کے بعد چلائیں۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کو اس علاقے میں سیاست کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اسرائیل کی داخلی سکیورٹی کے وزیرگڈون عذرا کا کہنا تھا کہ ’جو بھی مشرقی یروشلم میں مہم چلانا چاہتا ہے اسے پولیس سے اجازت حاصل کرنا ہو گی‘۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ علاقے کے رہائشیوں کو ووٹ ڈالنے دیا جائے گا یا نہیں۔ اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو دی جانے والی اس اجازت کے باوجود حماس کے کارکنوں کو اس علاقے میں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ’ جو بھی حماس کا حامی ہے اسے اجازت نہیں ملے گی‘۔ اس سے قبل اسرائیل نے خبردار کیا تھا کہ اگر حماس نے انتخابات میں حصہ لیا تو وہ وہ مشرقی یروشلم کے فلسطینیوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اسرائیل کے اس اعلان پر فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے کہا تھا کہ اگر مشرقی یروشلم کے فلسطینیوں کو انتخابات میں شرکت کی اجازت نہ دی گئی تو یہ انتخابات ملتوی کر دیے جائیں گے۔ محمود عباس کے اس اعلان پر اسرائیل کی اپوزیشن نے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ محمود عباس ان پر اِن انتخابات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کریں۔ فلسطینیوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ نگران اسرائیلی وزیرِاعظم ایہود المرت کا ایک جراتمندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ مشرقی یروشلم پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں دو لاکھ کے قریب فلسطینی آباد ہیں۔ ان فلسطینیوں کو سنہ 1996 کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تھی گ یاد رہے کہ ان انتخابات میں حماس شریک نہیں ہوئی تھی۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||