BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 January, 2006, 17:27 GMT 22:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطین انتظامیہ کا آئینی ڈھانچہ
فلسطینی انتخابات
فلسطینی انتخابات پچیس جنوری کو ہوں گے
فلسطین میں نئی پارلیمان کے لیے انتخابات پچیس جنوری کو ہوں گے۔ یہ پارلیمان چار سال کے لیے منتخب کی جائے گی۔

فلسطینی اتھارٹی نے انتخابات کو کئی دفعہ ملتوی کیا جس کی وجوہات میں اسرائیلی قبضہ اور امن امان کی صورت حال بیان کی گئیں۔ آخری مرتبہ ان انتخابات کا انعقاد پچھلے سال جولائی میں ہونا تھا۔

فلسطین کے مرکزی الیکشن کمیشن کے نو ممبران ہیں جن کا تقرر چار سال کی مدت کے لیے صدارتی حکم کے تحت کیا گیا ہے۔ ان کا انتخاب فلسطین کے ججوں، وکلا اور تعلیم کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں سے کیا گیا ہے۔ انتخابات کا انعقاد اور ان کی نگرانی اس ادارے کی ذمہ داری ہے۔

فلسطین کی مقننہ فلسطینی نیشنل کونسل کا حصہ ہے۔ انتخابات کے نئے قانون کے مطابق اس کے ممبران کی تعداد اٹھاسی سے بڑھا کر ایک سو بتیس کر دی گئی ہے۔

ان میں سے آدھے امیدوار اپنے حلقوں میں سے ووٹ لے کر منتخب ہوں گے جبکہ باقی آدھے متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت پارٹیوں کی جانب سے فراہم کی گئی فہرستوں پر منتخب کیے جائیں گے۔

فلسطین کے علاقے کو آبادی کی بنیاد پر سولہ انتخابی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ انتخابات الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹوں کے مطابق ہوں گے۔

غزہ اور مغربی کنارے میں ووٹ ڈالنے کے حقدار شہریوں کی تعداد تیرہ لاکھ پینیس ہزار ہے جبکہ یروشلم کے ایک لاکھ ووٹر اس میں شامل نہیں ہیں۔

انیس سو ترانوے میں اوسلو کے امن معاہدے کے دوران اسرائیل اور فلسطینی تحریک آزادی ’پی ایل او‘ کے مابین یہ اتفاق کیا گیا تھا کہ آزاد فلسطینی علاقوں میں منتخب ادارے قائم کیے جائیں۔ اس کے نیجے میں پہلی منتخب مقننہ جنوری انیس سو چھیانوے میں منتخب کی گئی۔

اس مقننہ کو انیس سو ننانوے تک کام کرنا تھا لیکن دوسری ’انتفادہ‘ اور اسرائیلی فوجی قبضے کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہوتے رہے۔

انیس سو پچانوے کے دوسرے اوسلو معاہدے میں فلسطینی مقننہ کی ساخت اور اختیارات کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس دستاویز کے مطابق الیکشن کونسل، اس کے انتظامی شعبے اور فلسطین نیشنل اتھاٹی کو سول اور اندرونی امن امان کے معاملات نمٹانے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم اس کے تمام اقدامات اسرائیلی نظرثانی کے ماتحت ہیں۔

فلسطینی مقننہ کے تمام اراکین چھ سو انہتر رکنی فلسطینی نیشنل اتھارٹی کے رکن بن جاتے ہیں جس کا اجلاس عام طور پر دو سال کے بعد ہوتا ہے۔ اس میں قرارداد منظور کرنے کے لیے سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے اور کورم پورا کرنے کے لیے دو تہائی اراکین کی موجودگی ضروری ہے۔

الیکشن قوانین کے مطابق ہر پارٹی کی فہرست کے پہلے تین ناموں میں ایک خاتون کا ہونا ضروری ہے۔ اس سے اگلے چار ناموں میں ایک اور پھر اگلے تمام پانچ ناموں میں بھی ایک خاتون کا ہونا لازمی ہے۔

اس کے علاوہ عیسائی اقلیتوں کے لیے چھ نشستیں مخصوص ہیں جبکہ انہیں عام نشستوں پر بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد