انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں: عباس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کو ووٹ دینے سے روکنے کی دھمکی سے باز نہیں آتا تو وہ اس ماہ ہونے والے عام انتخابات کو موخر کرنے کے حق میں ہیں۔ محمود عباس اپنی جماعت ’فتح‘ کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے انتخابات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ مسترد کرتے رہے ہیں لیکن اب ان کے مطابق اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ اگر مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کو ووٹ نہیں ڈالنے کا حق نہیں دیا جاتا تو پھر انتخابات کو ملتوی کر دیا جائے۔ انتخابی مہم کا آغاز منگل سے ہونے والا ہے۔ اسرائیل نے اس بات کے اشارے دیے تھے کہ اگر حماس نے پچیس جنوری کے عام انتخابات میں شرکت کی تو وہ مشرقی یروشلم میں ووٹنگ نہیں ہونے دے گا۔ جنوری کے انتخابات میں محمود عباس کی جماعت ’فتح‘ کو حماس کے امیدواروں کی جانب سے اہم انتخابی چیلنج کا سامنا ہے۔ حماس پہلی بار پارلیمانی انتخابات میں شامل ہے۔ ادھر اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے شمال میں دو فلسطینی شدت پسندوں کو ہلاک اور ایک کو زخمی کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ان افراد کا تعلق شدت پسند تنظیم اسلامی جہاد سے بتایا جاتا ہے۔ تاہم ایک رپورٹ کے مطابق اسلامی جہاد نے فائربندی کے لیے محمود عباس کی اپیل مسترد کردی تھی۔ | اسی بارے میں حملے روکنے کی عباس کی اپیل28 December, 2005 | آس پاس فلسطینی انتخابات کو خطرہ21 December, 2005 | آس پاس ’بیت اللحم بڑا قید خانہ بن چکا ہے‘25 December, 2005 | آس پاس الیکشن نہیں لڑوں گا: قریع24 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||