BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 December, 2005, 17:47 GMT 22:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن نہیں لڑوں گا: قریع
احمد قریع
احمد قریع کا تعلق فتح پارٹی کے دھڑے ’اولڈ گارڈ‘ سے ہے
بزرگ فلسطینی سیاستدان احمد قریع کا کہنا ہے وہ آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

اگرچہ انہوں نے وزارت عظمیٰ سے اس لیے استعفیٰ دیا تھا کہ انتخابات میں حصہ لے سکیں لیکن اب انہوں نے کہا ہے کہ یہ پارلیمانی انتخابات کے لیے مناسب وقت نہیں ہے خاص طور پر ان حالات میں جب اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ وہ یروشلم میں انتخابات نہیں ہونے دے گا۔

انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ان کے فیصلے کی وجہ حکمران جماعت کے اندرونی اختلافات ہیں۔ ’فتح‘ پارٹی مغربی کنارے کے رہنما مروان برغوتی کے الگ ہو جانے کی وجہ سے مشکلات کی شکار ہے۔

برغوتی نے آئندہ سال پچیس جنوری کے انتخابات کے لیے ایک نئی جماعت ’مستقبل‘ کے تحت امیدواروں کی ایک متبادل فہرست پیش کر دی ہے۔

فتح پارٹی کے رہنما اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اختلافات ختم کروانے کی کوشش میں ہیں۔ انہوں نے برغوتی کا نام فتح پارٹی میں پہلے نمبر پر لکھ دیا ہے جبکہ قریع کا نام دوسرے نمبر پر ہے۔

فلسطینی وزیر اغطم نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے چودہ دسمبر کو استعفیٰ دے دیا تھا کیونکہ قانون کے تحت وزرا اپنے عہدوں پر رہتے ہوئے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔

انہوں نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں انتخابات کروانے کے خیال سے متفق نہیں تھا لیکن پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے مجھے اس پر مجبور کیا۔ اس لیے میں نے انہیں خط لکھ دیا ہے کہ میں امیدوار نہیں ہوں‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں وزیر اعظم کے طور پر اپنا کام جاری رکھوں گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرقی یروشلم سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’ہمیں یروشلم کے بغیر انتخابات نہیں کروانے چاہئیں‘۔

انیس سو پچانوے میں فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے بعد پچیس جنوری کو ہونے والے انتخابات دوسرے انتخابات ہوں گے۔

خیحال کیا جا رہا ہے کہ فتح پارٹی کو اسلامی شدت پسند جماعت ’حماس‘ کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا ہو گا۔

حماس نے پہلے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن مقامی انتخابات میں اس جماعت نے بھاری اکثریت حاصل کی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ یروشلم میں انتخابات نہیں ہونے دے گا کیونکہ یہاں سے حماس کو زبردست برتری ملنے کی توقع ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یروشلم کے بغیر انتخابات نہیں کروائے جائیں گے۔ حماس اور دیگر دس دھڑوں نے صدر محمود عباس سے کہا ہے کہ انتخابات ملتوی نہ کیے جائیں۔

خالد میشاللڑائی کی تیاریاں
ہم سیاسی جمود کا شکار ہو گئے ہیں
احمد خطیب’امن کا تحفہ‘
فلسطینی لڑکے کے والد کا اسرائیل کو امن کاعطیہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد