BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 November, 2005, 03:40 GMT 08:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن کے نام پر اعضا کا عطیہ
جان بچانا مذہب سے زیادہ اہم ہے: اسماعیل
غرب اردن میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے فلسطینی لڑکے کے والد نے اپنے بیٹے کے اعضاء امن کے نام پراسرائیل کو دے دئے ہیں۔

بارہ سالہ احمد اسرائیل خطیب جنین میں اسرائیلی فوجیوں نے اس وقت سر اور جسم پرگولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا جب وہ ایک کھلونا گن لے کر کھڑا ہوا تھا۔ اسرائیلی فوج نے احمد کی موت پر بعد میں افسوس کا اظہار کیا ہے۔

احمد کے اعضاء کو پانچ اسرائیلی بچوں اور ایک 58سالہ مریض خاتون کو دیے گئے ہیں۔ احمد کے والد اسماعیل نے کہا کہ جان بچانا مذہب سے زیادہ اہم ہے اور امید ظاہر کی کہ احمد ہر اسرائیلی کے دل میں زندہ رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اعضاء اس لیئے عطیہ کئے گئے ہیں کہ وہ دنیا کو بتا نا چاہتے ہیں کہ فلسطین کے عوام امن چاہتے ہیں۔

احمد کی والدہ نے کہا کہ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ احمد کے اعضاء اسرائیلی یا فلسطینی کو لگائےجائیں کیونکہ ہر حال میں کسی نہ کسی کی جان بچے گی۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کے سپیکر روون رولن نے کہا کہ خطیب خاندان کا یہ فیصلہ حیرت انگیز ہے کیونکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کا کئی عشروں سے جھگڑا چل رہا ہے۔

احمد کے گردے، دل، پھیپھڑے اور کلیجی یہودیوں، عربوں اور دروز لڑکی کو دئے گئےہیں۔دل 12سالہ لڑکی کو دیاگیا جو پانچہ سال سے اس نوع کے عطیے کا انتظار کر رہی تھی۔ لڑکی کے والد ریاض غضبان نے کہا کہ یہ عطیہ محبت کا پیغام ہے۔ انہوں نےکہا کہ ان کی بیٹی آپریشن کے بعد ہمت سنبھال رہی ہے۔

اسی بارے میں
غزہ: دو فلسطینی رہنماء ہلاک
02 November, 2005 | صفحۂ اول
غزہ: مزید اسرائیلی حملے
29 October, 2005 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد