امن کے نام پر اعضا کا عطیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غرب اردن میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے فلسطینی لڑکے کے والد نے اپنے بیٹے کے اعضاء امن کے نام پراسرائیل کو دے دئے ہیں۔ بارہ سالہ احمد اسرائیل خطیب جنین میں اسرائیلی فوجیوں نے اس وقت سر اور جسم پرگولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا جب وہ ایک کھلونا گن لے کر کھڑا ہوا تھا۔ اسرائیلی فوج نے احمد کی موت پر بعد میں افسوس کا اظہار کیا ہے۔ احمد کے اعضاء کو پانچ اسرائیلی بچوں اور ایک 58سالہ مریض خاتون کو دیے گئے ہیں۔ احمد کے والد اسماعیل نے کہا کہ جان بچانا مذہب سے زیادہ اہم ہے اور امید ظاہر کی کہ احمد ہر اسرائیلی کے دل میں زندہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اعضاء اس لیئے عطیہ کئے گئے ہیں کہ وہ دنیا کو بتا نا چاہتے ہیں کہ فلسطین کے عوام امن چاہتے ہیں۔ احمد کی والدہ نے کہا کہ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ احمد کے اعضاء اسرائیلی یا فلسطینی کو لگائےجائیں کیونکہ ہر حال میں کسی نہ کسی کی جان بچے گی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے سپیکر روون رولن نے کہا کہ خطیب خاندان کا یہ فیصلہ حیرت انگیز ہے کیونکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کا کئی عشروں سے جھگڑا چل رہا ہے۔ احمد کے گردے، دل، پھیپھڑے اور کلیجی یہودیوں، عربوں اور دروز لڑکی کو دئے گئےہیں۔دل 12سالہ لڑکی کو دیاگیا جو پانچہ سال سے اس نوع کے عطیے کا انتظار کر رہی تھی۔ لڑکی کے والد ریاض غضبان نے کہا کہ یہ عطیہ محبت کا پیغام ہے۔ انہوں نےکہا کہ ان کی بیٹی آپریشن کے بعد ہمت سنبھال رہی ہے۔ | اسی بارے میں غزہ: دو فلسطینی رہنماء ہلاک 02 November, 2005 | صفحۂ اول راکٹ حملے نہ کرنے کی پیشکش30 October, 2005 | آس پاس غزہ: مزید اسرائیلی حملے29 October, 2005 | صفحۂ اول غزہ پر پھر فضائی حملہ، ایک ہلاک29 October, 2005 | آس پاس غزہ پر میزائلوں سے حملہ، 7 ہلاک28 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||