راکٹ حملے نہ کرنے کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی شدت پسند گروہ اسلامک جہاد کے رہنما کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم غزہ کے علاقے سے اسرائیل پر کیے جانے والے راکٹ حملوں کو مشروط طور پر روکنے کے لیے تیار ہے۔ خالد البتش نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اسرائیلی فوج اپنی جارحیت سے باز آ جائے تو ان کا گروہ اسرائیلی علاقے پر راکٹ فائر کرنا بند کر دے گا ۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ان کا گروہ خودکش حملے بھی روکے گا یا نہیں۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ثالثین تمام گروہوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔ فلسطینی رہنما محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ فلسطینی انتظامیہ، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹے میں ہونے والے روابط اور کوششوں کے نتیجے میں حالات میں بہتری آئی ہے‘۔ مسلح فلسطینی گروہوں کے نمائندے ابو النعجع کا کہنا تھا کہ فلسطینی گروہ فلسطینی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے اب تک سرکاری طور پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے تاہم ایک سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ’ بظاہر جنگ بندی کا سمجھوتہ‘ معلوم ہوتا ہے۔ اسلامک جہاد اور اسرائیلی فوج کے درمیان پیر کو لوئے سعدی نامی شدت پسند رہنما کی ہلاکت کے بعد سے جھڑپیں شروع ہوئی تھیں۔ بدھ کو ہدیرہ میں ایک خود کش حملے میں پانچ اسرائیلی ہلاک ہوئے جس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی حملہ کر کے نو فلسطینیوں کو مار دیا۔ ان اسرائیلی حملوں کے بارے میں اسرائیلی وزیرِدفاع شاؤل مفاذ کا کہنا تھا کہ یہ حملے اسلامی جہاد کی خودکش حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔ | اسی بارے میں غزہ پر پھر فضائی حملہ، ایک ہلاک29 October, 2005 | آس پاس غزہ پر میزائلوں سے حملہ، 7 ہلاک28 October, 2005 | آس پاس اسلامی جہاد: اسرائیل کا آپریشن 27 October, 2005 | آس پاس فلسطینی شدت پسند رہنما ہلاک 24 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||