اسلامی جہاد: اسرائیل کا آپریشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیراعظم ایرئیل شیرون نے کہا ہے کہ فلسطینی شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا جا رہا ہے جو ان کے بقول دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ اس آپریشن کی منظوری بدھ کو اسرائیلی قصبے حیدیرا میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے چند ہی گھنٹے بعد دی گئی۔ اس دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوئے تھے اور فلسطینی گروپ اسلامی جہاد نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اسرائیل کے اندر گزشتہ دو ماہ میں ہونے والا یہ پہلا دھماکہ تھا اور اسلامی جہاد کا کہنا تھا کہ اس نے یہ دھماکہ اپنے اس رہنما کی ہلاکت کا انتقام لینے کے لیے کیا جسے اسرائیلیوں نے نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیلی وزیردفاع شؤل موفاذ نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کا ہے کہ اسرائیل اس گروپ(اسلامی جہاد) کا بنایادی ڈھانچہ تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ گزشتہ تین راتوں سے اسرائیلی طیارے غزہ کی پٹی کے علاقوں پر مسلسل ہوائی حملے کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں اسرائیل میں بم دھماکہ پانچ ہلاک26 October, 2005 | آس پاس غزہ پر تازہ اسرائیلی حملے 28 September, 2005 | آس پاس اسرائیلی فوجی مہم، دو سو گرفتار25 September, 2005 | آس پاس اسرائیلی جہازوں کی غزہ پر بمباری25 September, 2005 | آس پاس اسرائیل حملے:4 فلسطینی ہلاک24 September, 2005 | آس پاس غزہ کے علاقے میں اسرائیل کا حملہ11 May, 2004 | آس پاس غزہ میں ایک ہلاک کئی زخمی05 May, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||