BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 September, 2005, 10:17 GMT 15:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی فوجی مہم، دو سو گرفتار
کارروائیوں پر کوئی پابندی نہیں ہوگی: شیرون
فوجی کارروائی پر کوئی پابندیاں نہیں: وزیراعظم شیرون
اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی شدت پسندوں کے خلاف ایک ’مسلسل فوجی مہم‘ کا حکم دیا ہے۔ وزیراعظم شیرون نے اپنی کابینہ کے ارکان کو بتایا کہ اس مہم کے تحت فوج کے ذریعے استعمال میں آنے والے طریقۂ کار پر کوئی پابندیاں نہیں ہوگیں۔

سنیچر کی شب اسرائیلی فوجی طیاروں نے غزہ میں فلسطینی اہداف پر بمباری کی جس میں کئی افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اسی دوران اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں غرب اردن سے دو سو سے زائد مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یورپی یونین نے تشدد میں تیزی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے احتیاط برتنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تشدد میں نئی تیزی غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے دو ہفتوں کے بعد آئی ہے۔

برطانیہ نے، جو یورپی یونین کا سربراہ ہے، فلسطینی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ غزہ کی پٹی میں سکیورٹی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین ’اسرائیل کے اپنے دفاع میں کارروائی کرنے کے حق کو سمجھتی ہے لیکن اسرائیل سے احتیاط برتنے کی اپیل کرتی ہے۔‘

اتوار کی صبح بھی اسرائیلی فورسز نے اسلحہ کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ایک اسکول کو بھی نشانہ بنایا جس پر شدت پسندوں سے منسلک ہونے کا شبہہ ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے تشدد کی روداد کچھ یوں ہے:

جمعہ: اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے شہر تلکرم میں اسلامی جہاد کے تین شدت پسندوں کو ہلاک کردیا جن پر اس سال خود کش حملوں میں ملوث ہونے کا شبہہ تھا۔ اسلامی جہاد نے غزہ سے اسرائیل پر ایک راکٹ سے جوابی کارروائی کی۔

جمعہ: غزہ میں حماس کی ریلی میں ہونے والے ایک دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے۔ حماس اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے لیکن اسرائیل نے اس میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار کیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ نے حماس پر الزام لگایا ہے کہ ریلی کے دوران اسلحوں سے احتیاط نہیں برتا جارہا۔

جمعہ/سنیچر: غزہ سے شدت پسندوں نے اسرائیل پر چالیس راکٹ داغے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کارروائی ریلی میں ہونے والے دھماکے کے بدلے میں کیا۔ سنیچر کو اسرائیل نے جواب میں فوجی کارروائی شروع کی جس کے نتیجے میں غزہ میں حماس کے دو کارکن ہلاک ہوگئے۔

سنیچر: شمالی غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوجی اور آرٹیلری جمع ہونا شروع ہوئے۔ غزہ اور غرب اردن کی سرحدیں سیل کردی گئیں۔ سنیچر کی شب اور اتوار کو اسرائیل نے فضائی حملے کیے اور دو سو فلسطینیوں کو غرب اردن سے گرفتار کرلیا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غرب اردن سے گرفتار کیے جانے والوں میں حماس اور اسلامی جہاد کے کارکن ہیں۔ حماس نے کہا کہ اس کے رہنما حسن یوسف گرفتار ہونے والوں میں ہیں۔

اتوار کی صبح اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون نے اپنی کابینہ کے ارکان کو بتایا کہ انہوں نے فلسطینی شدت پسندوں کے خلاف مسلسل فوجی مہم کا حکم جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’میں نے حکم جاری کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے ارکان، دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور ساز و سامان پر حملے کرنے میں کسی قسم کی پابندی نہیں ہوگی۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد