فلسطینیوں کے لیے کراسنگ پوائنٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان پہلا کراسنگ پوائنٹ کھول دیاگیا ہے۔ غزہ کا بیرونی دنیا سے یہ واحد ایسا راستہ ہے جس کا انتظام خود فلسطینی انتظامیہ کے پاس ہوگا۔ ہزاروں فلسطینی جمعہ کی رات سے ہی اس مقام پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے اور جب سنیچر کو کراسنگ پوائنٹ کھولا گیا تو انہوں نے سرحد عبور کی۔ اس سلسلے میں افتتاحی تقریب جمعہ کو منعقد ہوئی تھی۔ اس پوائنٹ کے کھلنے سے غزہ کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اسرائیل نے اس کراسنگ پوائنٹ کا انتظام فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کر دیا ہے تاہم یورپی یونین کے نمائندے اس پر نظر رکھیں گے۔ سرحد کھلنے کا افتتاح کرتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ ’ مجھے لگتا ہے اب ہر فلسطینی نے اپنا پاسپورٹ بنوا کر جیب میں رکھ لیا ہے ۔‘ اس موقع پر مشرق وسطٰی میں یورپی یونین کے نمائندے نے کہا کہ غزہ اور مصر کے درمیان سرحد کا کھلنا ’ فلسطینی لوگوں کی آزادی کی جانب ایک بہت بڑا قدم ثابت ہوگا۔‘ واضح رہے کہ غزہ کے پاس کوئی بندرگاہ نہیں ہے اور اسرائیل نے فلسطینیوں کو غزہ کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی اس لیے رفاہ کا کراسنگ پوائنٹ بیرونی دنیا کے ساتھ غزہ کے رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ غزہ سے اپنے انخلاء کے بعد ستمبر میں اسرائیل نے رفاہ کے مقام سے سرحد کو یہ کہہ کر بند کر دیا تھا کہ اس راسطے سے اسلحہ اور جنگجو غزہ میں داخل ہوں سکتے ہیں۔ اس وقت سے یہ راستہ عملی طور پر بند ہی رہا ہے۔ اسرائیل کا اصرار رہا ہے کہ اسے اس بات کا حق دیا جائے کہ وہ اس چیک پوائنٹ پر چند میل دور اپنے فوجی اڈے سے نظر رکھ سکے۔ گزشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اسرائیل اور مصر کو ایک معاہدے پر متفق کرا لیا جس کے تحت اس مقام سے سرحد کو کھولا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت اس کراسنگ پوائنٹ پر تعینات فلسطینی انتظامیہ کے اہلکاروں کے اختیارات محدود ہوں گے۔ اسرائیلی سیکورٹی اہلکار کراسنگ پوائنٹ پر ہر قسم کی نقل و حرکت کو ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھنے کے مجاز ہوں گے تا ہم انہیں کسی کو سرحد کے آر پار جانے سے روکنے کے اختیارات نہیں ہوں گے۔
معاہدے کے تحت فلسطینیوں کو دسمبر سے بسوں کے قافلے میں غزہ اور غرب اردن کے درمیان سفر کی اجازت ہو گی جبکہ مال بردار گاڑیوں کی اجازت اس کے ایک ماہ بعد شروع ہوگی۔ سرحد کی نگرانی کرنے والی یورپی یونین کی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے عملے کی تعداد محدود ہے کراسنگ پوائنٹ کو روزانہ چار گھنٹے کے لیے کھولا جائے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ یورپی ممالک کے اہلکار اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کو حل کرنے میں براہ راست حصہ لے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں غزہ: دو فلسطینی رہنماء ہلاک 02 November, 2005 | صفحۂ اول ’غزہ مصر سرحد بند کر دی گئی‘18 September, 2005 | صفحۂ اول غزہ پر میزائلوں سے حملہ، 7 ہلاک28 October, 2005 | آس پاس غزہ سرحد کھولنے کا معاہدہ 15 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||