BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات سے پہلے ہی فتح ٹوٹ گئی
ماروان برغوثی
ماروان برغوثی باغی گروہ کے سربراہ نامزد کیے گئے ہیں
فلسطین کی برسرِ اقتدار جماعت، فتح، دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔

جماعت میں پھوٹ پڑنے کی وجہ سے دوسرے گروہ نے پارلیمانی انتخابات کے لیے اپنے الگ امیدواروں کی لِسٹ پیش کی ہے۔

باغی لِسٹ میں سے سے پہلا نام ماروان برغوثی کا ہے اور ان کی جماعت کا نیا نام المستقبل رکھا گیا ہے۔

فتح میں اس پھوٹ کو فلسطینی صدر محمود عباس کے لیے ایک دھچکہ تصور کیا جا رہا ہے۔

1995 میں فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے بعد پچیس جنوری کو ہونے والے انتخابات دوسرے انتظابات ہیں جن میں فلسطینی حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم شدت پسند گروہ حماس نے انتخابات کے لیے باسٹھ امیدواروں کی لِسٹ تیار کی ہے۔ حماس نے پہلے پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

سابق فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے انتقال کے بعد سے ہی فتح گروہ میں دھڑا بندی شروع ہو گئی تھی جو آہستہ آہستہ بڑھتی گئی۔

باغی گروہ کی لِسٹ اسرائیل میں قید فلسطینی رہنما ماروان برغوثی کی اہلیہ نے رات گئے غربِ اردن کے علاقے رملہ میں انتخابات کے صدر دفتر میں پیش کی۔

برغوطی کی انتخابی مہم کے انچارج سائب نمر نے کہا ہے کہ ’ہم نے المستقبل کے نام سے ایک نئی جماعت بنائی ہے جس کے سربراہ ماروان برغوثی ہیں۔

اس سے قبل غزہ میں فتح کے صدر دفتر کے باہر فائرنگ کے تبادلے میں کم سے کم تین افراد زخمی ہوگئے تھے۔

فتح سے منسلک مسلح افراد کا مطالبہ ہے کہ جماعت کی پرائمری ووٹنگ کے دوران منتخب افراد کو ہی جنوری کے انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کیا جائے۔

جماعت کی پرائمری ووٹنگ کے دوران بدعنوانیوں اور تشدد کے واقعات کی وجہ سے فلسطینی صدر محمود عباس نے جنوری کے پارلیمانی انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فتح کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بولنے والے مسلح افراد مطالبہ کررہے ہیں کہ محمود عباس پرائمری ووٹنگ کے نتائج پر عمل کرتے ہوئے منتخب شدہ افراد کو امیدوار بننے دیں۔

فتح سے منسلک افراد نے جب غزہ میں جماعت کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بولا تو انہیں محمود عباس کے حامیوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا رہا اور انہیں دفتر خالی کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ ایسا نہ کرنے پر مسلح جھڑپ میں تین افراد زخمی ہوگئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد