BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 December, 2005, 12:04 GMT 17:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فتح‘ کے دفتر کے باہر مسلح جھڑپیں
’فتح‘ کے مسلح افراد
غزہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت ’فتح‘ کے صدر دفتر کے باہر فائرنگ کے تبادلے میں کم سے کم تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

فتح سے منسلک مسلح افراد کا مطالبہ ہے کہ جماعت کی پرائمری ووٹنگ کے دوران منتخب افراد کو ہی جنوری کے انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کیا جائے۔

جماعت کی پرائمری ووٹنگ کے دوران بدعنوانیوں اور تشدد کے واقعات کی وجہ سے فلسطینی صدر محمود عباس نے جنوری کے پارلیمانی انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فتح کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بولنے والے مسلح افراد مطالبہ کررہے ہیں کہ محمود عباس پرائمری ووٹنگ کے نتائج پر عمل کرتے ہوئے منتخب شدہ افراد کو امیدوار بننے دیں۔

جنوری کے پارلیمانی انتخابات کے لیے امیدواروں کے رجسٹریشن کا آج آخری دن ہے۔ غزہ اور غرب اردن میں مسلح افراد کے حملوں میں مرکزی انتخابی کمیشن کے دفاتر پر حملے کیے گئے ہیں۔

انتخابی کمیشن نے تشدد کی وجہ سے اپنا دفتر بند کردیا تھا لیکن اب بدھ کی نصف شب تک امیدواروں کے رجسٹریشن کے لیے اپنا دفتر کھولنے پر راضی ہوگیا ہے۔

فتح سے منسلک افراد نے جب غزہ میں جماعت کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بولا تو انہیں محمود عباس کے حامیوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا رہا اور انہیں دفتر خالی کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ ایسا نہ کرنے پر مسلح جھڑپ میں تین افراد زخمی ہوگئے۔

پچیس جنوری کے پارلیمانی انتخابات کے لیے امیدواروں کی نامزدگی سے قبل اب تک کا یہ سب سے بڑا تشدد سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی فتح کے دھڑوں کے درمیان اس طرح کی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد