’نئی پارٹی امن قائم کرے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیراعظم ایرئیل شیرون نے کہا ہے کہ وہ اپنی نئی پارٹی کے ذریعے ’فلسطین کے ساتھ ایک پر امن سمجھوتے‘ کی بنیاد رکھیں گے۔ مسٹر شیرون کا یہ بیان دائیں بازو کی جماعت لکود پارٹی کو چھوڑنے کی بعد سامنے آیا ہے جس کی بنیاد انہوں نے 1973 میں رکھی تھی۔ مسٹر شیرون کو لکود پارٹی کے اتنے ارکان پارلیمینٹ کی حمایت حاصل ہے کہ وہ اپنی سابق پارٹی کی سرکاری فنڈنگ کے کچھ حصے کے حقدار بن گئے ہیں۔ لیکن مسٹر شیرون وزیر دفاع شاؤل موفاز کو اپنے ساتھ ملانے میں ناکام رہے ہیں جو اب ان چھ رہنماؤں میں شامل ہیں جو مسٹر شیرون کی جگہ لینے کے لئے امیدوار ہیں۔ مسٹر شیرون نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ ایک نئی ’نیشنل لبرل پارٹی‘ بنا رہے ہیں۔ ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے مسٹر شیرون نے کہا تھا کہ ’لکود پارٹی اپنی موجودہ شکل میں اسرائیل کو اس کے قومی مقاصد حاصل کروانے میں اس کی رہنمائی نہیں کرسکتی۔‘ انہوں نے دائیں اور بائیں بازو دونوں ہی سیاسی مکتبہ فکر کے افکار کو شامل کیا ہے اور ایک طرف دہشت گردی کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کی جبکہ دوسری طرف غربت کے خاتمے کی بات کی ہے۔ مسٹر شیرون کے اعلان کے بعد اسرائیل میں جلد انتخابات کا عمل شروع ہوگیا۔ انہوں نے صدر موشے کاتسو سے کینیسٹ یا پارلیمینٹ کو تحلیل کرنے کی سفارش کی لیکن چند گھنٹوں بعد پارلیمینٹ نے خود ہی اپنے آپ کو تحلیل کردیا۔ یروشلم میں بی بی سی کی نامہ نگار کیٹیا ایڈلر کے مطابق اس پیتش رفت کے بعد مشرق وسطٰی کے سیاسی نقشے میں نئی تبدیلیان متوقع ہیں۔ اسرائیل کے اگلے انتخابات میں عوام کے سامنے اب تین راستے ہونگے۔ دائیں طرف لکود پارٹی ، بائیں طرف لیبر پارٹی جبکہ درمیان میں مسٹر شیرون کی لبرل پارٹی ہوگی۔ | اسی بارے میں اسرائیل: مڈ ٹرم الیکشن کی سفارش21 November, 2005 | آس پاس شیرون: لِکود پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ20 November, 2005 | آس پاس اسرائیلی انتخابات فروری میں 17 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||