اسرائیلی انتخابات فروری میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون اور ان کی اتحادی جماعت لیبر پارٹی کے نئے رہنما عمیر پیریتز ملک میں عام انتخابات وقت سے نو ماہ قبل ہی آئندہ فروری میں کرانے پر راضی ہوگئے ہیں۔ شیرون کی حکومت اس وقت سیاسی بحران کا شکار ہوگئی تھی جب عمیر پیریتز نے غیرمتوقع طور پر لیبر پارٹی کا نیا رہنما منتخب ہونے پر حکومتی اتحاد سے نکل جانے کا اعلان کردیا۔ ان کے اس فیصلے سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے شیرون اور پیریتز کے درمیان جمعرات کو بات چیت ہوئی۔ اسرائیل میں عام انتخابات نومبر دو ہزار چھ سے قبل متوقع نہیں تھے۔ وزیراعظم شیرون نے اخبار ’یدیعوت احارونوت‘ سے ایک انٹرویو میں کہا: ’ضمنی انتخابات۔ مئی میں نہیں، مارچ میں۔ اگر ممکن ہوا تو فروری میں ہی ہم عوام کے پاس جائیں گے۔‘ جمعرات کی بات چیت کے بعد عمیر پیریتز نے بھی اعلان کیا کہ وہ فروری میں انتخابات کرانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو پیریتز کی قیادت پر اعتماد ہے۔ وزیراعظم نے اخبار کو بتایا: ’جیسے ہی یہ واضح ہوگیا کہ موجودہ سیاسی فریم ورک بکھر رہا ہے، میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ملک کے لیے سب سے بہتر یہ ہوگا کہ جتنا جلد ہوسکے نئے انتخابات کرائے جائیں۔‘ خبررساں ایجنسی رائٹرز نے اسرائیل آرمی ریڈیو کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم انتخابات کے لیے اٹھائیس فروری کی تاریخ طے کریں گے۔ لیکن تاریخ کے بارے میں ان کے دفتر سے ابھی کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ جمعرات کے مذاکرات کے بعد عمیر پیریتز نے بتایا کہ انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ پیر تک کیا جائے گا۔ پیریتز مراکشی نژاد اسرائیلی ہیں اور انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات پھر سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ | اسی بارے میں شیرون عباس سے مطمئن ہیں27 January, 2005 | آس پاس ’انخلا اسرائیل کے مفاد میں ہے‘15 August, 2005 | آس پاس شیرون کو نِتن یاہو کا چیلنج30 August, 2005 | آس پاس شیرون کا بیٹا، بدعنوانی کا ملزم28 August, 2005 | آس پاس اسرائیلی عدم تعاون کی دھمکی17 September, 2005 | آس پاس شیرون کے حق میں ووٹ27 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||