شیرون کا بیٹا، بدعنوانی کا ملزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزارتِ قانون کا کہنا ہے اگر اومری شیرون پر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں پانچ برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اسرائیل کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ہی اومری شیرون پر الزمات لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا لیکن ان پر مقدمہ چلانے کے لیے ایک ماہ انتظار اس لیے کرنا پڑا کیونکہ اومری کو قانونی تحفظ حاصل تھا اور جسے ختم کرنے کے لیے ایک بل منظور کرنا پڑا۔ اومري شیرون نے اپنے والد کی انتخابی مہم چلائی تھی اور ان پر اپنے والد کی جماعت کو ملنے والی رقوم میں گھپلے کرنے کا الزام ہے۔ ان الزامات کا تعلق سنہ 1999 میں شیرون کی جانب سے لیکود جماعت کی سربراہی اور وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے نامزدگی سے ہے۔ اب تمام توجہ اس بات پر مرکوز ہوگئی ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم پر اس فیصلے کا کیا اثر پڑتا ہے۔ ایرئیل شیرون لگاتار اس معاملے میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی انتخابی مہم مکل طور پران کے بیٹے نے چلائی تھی۔ اومری شیرون نے اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ انتخابات کی مہم پر محدود خرچے کا قانون ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے شخص ہیں جن پر سیاسی جماعتوں کے قانون کی خلاف ورزی پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||