رشوت ستانی کے مقدمے کا سامنا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی ٹیلی ویژن نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ملک کے سرکاری استغاثہ کی سربراہ اٹارنی جنرل سےسفارش کریں گی کہ وزیر اعظم آریل شیرون کے خلاف بد عنوانی کے زیر تفتیش مقدمہ میں ان پر فرد جرم عائد کی جائے۔ اسرائیل کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق سرکاری استغاثہ کی سربراہ ایڈنا اربیل اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ مسٹر شیرون کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے وافر جواز ہیں۔ وزیر اعظم شیرون نے رشوت ستانی کے الزام سے انکار کیا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ کے استغاثہ کی طرف سے فرد جرم کا موقف اگلے چند دنوں میں اٹارنی جنرل کے سامنے پیش کیا جائے گا جو اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے کہ آیا آریل شیرون کے خلاف فرد جرم عائد کی جائے یا نہیں۔ یہ فیصلہ اپریل میں متوقع ہے۔ آریل شیرون کے خلاف اس مقدمے میں ممتاز اسرائیلی بزنس مین ڈیوڈ ایپل ملوث ہیں۔ گزشتہ جنوری میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ آریل شیرون کے بیٹے کو رشوت دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ سن نوے کے عشرے میں ایک یونانی جزیرے میں ایک جائیداد کے سودے کے لئےاپنے والد آریل شیرون پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ ڈیوڈ ایپل پر الزام ہے کہ اس نےوزیر اعظم کے بیٹے گیلاد کو اپنے مشیر کی حیثیت سے بھاری رقم ادا کی جبکہ گیلاد کو سیاحت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ آریل شیرون اور ان کے بیٹے کے درمیان قریبی تعلق کے پیش نظر اس بات کا امکان ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کو اس مبینہ سودے کے بارے میں علم ہوگا۔ آریل شیرون کا اصرار ہے کہ ان الزامات کے باوجود وہ سن دو ہزار سات تک اپنی وزارتِ اعظمیٰ کی معیاد پوری کریں گے۔ لیکن امکان ہے کہ اگر ان پر فرد جرم عائد کی گئی تو انہیں کم از کم عارضی طور پر وزارت اعظمیٰ سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||