BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 March, 2004, 08:32 GMT 13:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بدعنوانی: کاغذات پیش کریں‘
News image
شیرون نے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ نے ملک کے وزیراعظم ایریئل شیرون کے فرزند غلاد شیرون کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے والد پر عائدہونے والے بدعنوانی کے الزامات سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کریں۔

اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون پر یہ الزام ہے کہ جب وہ ملک کے وزیر خارجہ تھے تو انہوں نے متعدد بار رشوت وصول کی تھی۔

ایک روز قبل اسرائیل کی چیف پراسیکیوٹر ایڈنا ارابیل نے ملک کے اٹارنی جنرل کو وزیراعظم ایریئل شیرون کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات کے بارے اپنی سفارشات پیش کی تھیں۔

وزیراعظم ایریئل شیرون گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے سے پولیس کی تفتیش میں شامل رہے ہیں۔

استغاثہ ان کے بارے میں بدعنوانی کے ان الزامات کی تحقیقات کرتا رہا ہے جو الزامات کے مطابق انیس سو نوے کی دہائی کے اواخر میں اس وقت کی گئیں جب ایریئل شیرون اسرائیل کے وزیر خارجہ تھے۔

اس سلسلے میں بنیادی سوال یہی رہا ہے کہ آیا ایریئل شیرون یونان کے سیاحتی مقام پر تفریح گاہ کی تعمیر کی منظوری کے لئے جانتے بوجھتے ہوئے ایک اسرائیلی تاجر کی جانب سے پیش کی جانے والی رشوت قبول کی تھی یا نہیں۔

اب یہ اشارے مل رہے ہیں کہ سرکاری وکلاء یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ملک کے وزیراعظم پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ طور پر اس مقدمے میں شامل کر لیا جائے۔

اگرچہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ ملک کے اٹارنی جنرل میناخم مزوز ہی کریں گی اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرنے میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ لیکن یہ اطلاعات کہ، اٹارنی جنرل نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے۔

حزب اختلاف کے کئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ایریئل شیرون پر فرد جرم عائد کی جا رہی ہے تو انہیں مستٰعفی ہوجانا چاہئے۔

اسرائیلی وزیراعظم ہمیشہ ہی ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس موقعہ پر یونانی جزیرے پر اس سیاحتی مرکز کی تعمیر میں کوئی بد عنوانی نہیں ہوئی۔

اس سے پہلے اسرائیلی ٹیلی ویژن نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ملک کے سرکاری استغاثہ کی سربراہ اٹارنی جنرل سےسفارش کریں گی کہ وزیر اعظم ایریئل شیرون کے خلاف بدعنوانی کے زیر تفتیش مقدمہ میں ان پر فرد جرم عائد کی جائے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق سرکاری استغاثہ کی سربراہ ایڈنا اربیل اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ مسٹر شیرون کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے وافر جواز ہیں۔

ایریئل شیرون کے خلاف اس مقدمے میں ممتاز اسرائیلی بزنس مین ڈیوڈ ایپل ملوث ہیں۔

گزشتہ جنوری میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ ایریئل شیرون کے بیٹے کو رشوت دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ سن نوے کے عشرے میں ایک یونانی جزیرے میں ایک جائیداد کے سودے کے لئےاپنے والد ایریئل شیرون پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایریئل شیرون اور ان کے بیٹے کے درمیان قریبی تعلق کے پیش نظر اس بات کا امکان ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کو اس مبینہ سودے کے بارے میں علم ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد