شیرون کےخلاف عدم اعتماد ناکام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کے خلاف پارلیمان میں پیش کی جانے والی عدم اعتماد کی تین تحریکیں ناکام ہو گئی ہیں حالانکہ ان کی مخلوط حکومت کے ارکان احتجاجاً پارلیمان سے غیر حاضر بھی تھے۔ حکومت کو ان تحریکوں کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ووٹ مل گئے اور وزیرِ اعظم کو مخلوط حکومت کے ایک سال پورے ہونے پر تقریر کے لئے جو ووٹ چاہئیں تھے ان کا حصول بھی ہوگیا۔ وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کی حمایت نہ کرنے والے ان کی مخلوط حکومت کے اراکان اس بات پر ناراض تھے کہ فلسطینی علاقوں میں کئی یہودی بستیوں کو ختم کرنے کا منصوبہ کیوں بنایا گیا ہے۔ ادھر ایریئل شیرون پر ایک بار پھر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ غربِ اردن میں تعمیر ہونے والی باڑ کے راستے کو از سرِ نو مرتب کریں۔ جرمنی کے وزیرِ خارجہ جوشکا فشر نے اسرائیل میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپی اتحاد چاہتا ہے کہ غربِ اردن میں باڑ تعمیر کرنے کے منصوبے میں خاطر خواہ تبدیلی لائی جائے۔ کنیسٹ کے ہنگامہ خیز اجلاس میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے شیرون حکومت کی سماجی اور معاشی پالیسوں کی مذمت میں تین مختلف تحاریکِ عدم اعتماد پیش کی تھیں۔ گو خود حکومت میں شامل جماعتوں کے ارکان احتجاجاً پارلیمان سے باہر رہے لیکن پھر بھی حزبِ مخالف ایک سو بیس میں سے اکسٹھ ووٹ جمع نہ کر سکی کہ جس سے حکومت کو گرایا جا سکتا تھا۔ حکومت کی دو حامی جماعتوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے ک اگر ایریئل شیرون اپنے منصوبے پر قائم رہے تو وہ حکومت سے الگ ہو جائیں گی۔ ان تحریکوں کے ناکام ہونے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسرائیل کو معاشی بحران سے باہر نکالنے کے لئے انہیں وقت درکار ہے۔ تاہم سن دو ہزار میں شروع ہونے والا فلسطینی انتفادہ اور عالمی معاشی پسماندگی کے سبب صورتِ حال خراب ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||