شیرون پر بدعنوانی کے الزامات کا دباؤ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی چیف پراسیکوٹر ایڈنا ارابیل نے ملک کے اٹارنی جنرل کو وزیراعظم آریل شیرون کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات کے بارے اپنی سفارشات دے دی ہیں۔ وزیراعظم آریل شیرون گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے سے پولیس کی تفتیش میں شامل رہے ہیں۔ استغاثہ ان کے بارے میں بدعنوانی کے ان الزامات کی تحقیقات کرتا رہا ہے جو الزامات کے مطابق انیس سو نوے کی دہائی کے اواخر میں اس وقت کی گئیں جب آریل شیرون اسرائیل کے وزیر خارجہ تھے۔ اس سلسلے میں بنیادی سوال یہی رہا ہے کہ آیا ایرئیل شیرون یونان کے سیاحتی مقام پر تفریح گاہ کی تعمیر کی منظوری کے لئے جانتے بوجھتے ہوئے ایک اسرائیلی تاجر کی جانب سے پیش کی جانے والی رشوت قبول کی تھی یا نہیں۔ اب یہ اشارے مل رہے ہیں کہ سرکاری وکلاء یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ ملک کے وزیراعظم پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ طور پر اس مقدمے میں شامل کرلیا جائے۔ اگرچہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ ملک کے اٹارنی جنرل میناخم مزوز ہی کریں گی اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرنے میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ لیکن یہ اطلاعات کہ، اٹارنی جنرل نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے۔ حزب اختلاف کے کئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ایرئیل شیرون پر فرد جرم عائد کی جارہی ہے تو انہیں مستٰعفی ہوجانا چاہیے۔ اسرائیلی وزیراعظم ہمیشہ ہی ان الزامات کی تردیدی کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس موقعہ پر یونانی جزیرے پر اس سیاحتی مرکز کی تعمیر میں کوئی بد عنوانی نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے اسرائیلی ٹیلی ویژن نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ملک کے سرکاری استغاثہ کی سربراہ اٹارنی جنرل سےسفارش کریں گی کہ وزیر اعظم آریل شیرون کے خلاف بد عنوانی کے زیر تفتیش مقدمہ میں ان پر فرد جرم عائد کی جائے۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق سرکاری استغاثہ کی سربراہ ایڈنا اربیل اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ مسٹر شیرون کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے وافر جواز ہیں۔ آریل شیرون کے خلاف اس مقدمے میں ممتاز اسرائیلی بزنس مین ڈیوڈ ایپل ملوث ہیں۔ گزشتہ جنوری میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ آریل شیرون کے بیٹے کو رشوت دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ سن نوے کے عشرے میں ایک یونانی جزیرے میں ایک جائیداد کے سودے کے لئےاپنے والد آریل شیرون پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ آریل شیرون اور ان کے بیٹے کے درمیان قریبی تعلق کے پیش نظر اس بات کا امکان ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کو اس مبینہ سودے کے بارے میں علم ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||