فلسطینی انتخابات کو خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتظامیہ نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے یروشلم میں فلسطینیوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دی تو 25 جنوری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات منسوخ کر دیے جائیں گے۔ فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں فلسطینیوں کو مشرقی بیت المقدس میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ ان کے بقول اس سے شدت پسند گروہ حماس کو طاقت بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے وزیر اطلاعات نبیل شعت نے کہا ہے کہ اگر مشرقی بیت المقدس میں ووٹنگ نہیں ہو گی ’تو سرے سے انتخابات ہی نہیں ہونگے‘۔ یہ انتخابات 1995 میں فلسطینی انتظامیہ کے قیام کے بعد دوسری بار ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کے دفتر ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گزشتہ جنوری میں ہونےوالے فلسطینی انتخابات کے لیے ووٹنگ کی اجازت دی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اسرائیلی حکومت نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو سے کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ’ہم کسی صورت میں اس بار مشرقی یروشلم میں فلسطینی انتخابات کے لیے ووٹنگ کی اجازت نہیں دیں گے‘۔ گزشتہ انتخابات کے دوران مشرقی یروشلم میں خصوصی انتظامات کے تحت فلسطینیوں کو ڈاک خانوں میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اسرائیل مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر کے اسے اپنا خصوصی علاقہ قرار دے چکا ہے جب کہ عالمی قانون کے تحت اب بھی مشرقی بیت المقدس کو اب بھی مقبوضہ علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔ اسرئیل نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حماس فلسطین کی بالا دست سیاسی جماعت بنی تو وہ جاری امن عمل کو ہی ختم کر دے گا۔ | اسی بارے میں غزہ پر اسرائیلی ہوائی حملہ24 September, 2005 | آس پاس غزہ میں دھماکہ، 15 فلسطینی ہلاک23 September, 2005 | آس پاس ’پاکستان نےپیٹھ میں چھراگھونپا ہے‘02 September, 2005 | آس پاس ممتاز فلسطینی رکن پارلیمان مستعفی11 July, 2005 | آس پاس غرب اردن: یہودی آبادی کی توسیع22 March, 2005 | آس پاس تلکرم کی منتقلی پر رضامندی21 March, 2005 | آس پاس فلسطینی انتخابات میں ووٹنگ ختم09 January, 2005 | آس پاس حماس: انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان 01 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||