غزہ پر اسرائیلی ہوائی حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی جنگی طیاروں نے انخلاء کے بعد پہلی بار شمالی غزہ میں فلسطینی ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ یہ اسرائیلی حملہ مبینہ فلسطینی شدت پسند گروپوں کی جانب سے غزہ سے اکیس راکٹ فائر کیے جانے کے واقعے کے بعد ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پانچ اسرائیلی شہری ان راکٹوں سے زخمی ہوئے۔ شدت پسند تنظیم اسلامی جہاد نے دس گھریلو ساخت کے راکٹ اسرائیل پر فائر کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اسلامی جہاد کے مطابق ان راکٹوں کے ذریعے تلکرم میں اس کے تین رہنماؤں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسرائیلی کے وزیر دفاع شول موفاز نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ غزہ سے ہونے والے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ پر ہونے والے ہوائی حملے کا مقصد جبالیہ کے مہاجر کیمپ میں واقع حماس کے اسلحہ ڈپو کو تباہ کرنا تھا۔ اس سے پہلے جمعرات کو غزہ میں ایک دھماکہ ہوا جس میں 15 فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب غزہ شہر میں واقع جبالیہ کے پناہ گزیں کیمپ میں حماس کی طرف سے منعقد کی جانے والی ایک ریلی کے دوران بندوق برداروں اور گولہ بارود سے بھرا ایک ٹرک دھماکے سے اڑ گیا۔ حماس نے اسرائیلی فوج کو دھماکے کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کا بدلہ لیں گے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس دھماکے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ فلسطینی لیڈر محمود عباس کی تنظیم الفتح کا کہنا ہے کہ حماس تنظیم دھماکے کی ذمہ دار ہے۔ ٹیلی ویژن پر ریلی کی دکھائی جانے والی فلم میں ریلی کے درمیان سے دھواں اٹھتے ہوئے دکھایا گیا۔ دھماکہ کے بعد لوگوں میں افراتفریحی پھیل گئی اور انہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔اس فلم میں بہت سے زخمیوں کو زمین پر گرے ہوئے بھی دکھایاگیا۔ یہ دھماکہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے بعد ہونے والا بدترین واقعہ ہے۔ حماس اور دوسرے فلسطینی مسلح گروہ اسرائیل کو غزہ سے نکل جانے پر مجبور کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||