BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 September, 2005, 02:08 GMT 07:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
38 سال بعد غزہ میں فلسطینی پرچم
News image
فلسطینیوں نے کہا تھا کہ وہ یہودی عبادت گاہوں کا تقدس پامال نہ ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتے
اڑتیس سال کے قبضے کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے پیر کو واپسی شروع کردی جس کے ساتھ ہی فلسطینی سکیورٹی افواج نے وہاں اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔

اسرائیلی فوجیوں کی واپسی شروع ہوتے ہیں ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں نے خوشیاں منانا شروع کر دیں، جبکہ کئی فلسطینی یہودیوں کی چھوڑی ہوئی بستیوں میں چلے آئے۔

ایک بستی میں یہودیوں کی کئی عمارتوں کو جن میں ان کی ایک عبادت گاہ بھی شامل ہے، نذرِ آتش کر دیا گیا ہے۔ اس سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ اس عبادت گاہ کو جوں کا توں رہنے دیا جائے۔ فلسطینیوں نے کہا تھا کہ وہ یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ یہودی عبادت گاہ کی بے حرمتی نہیں ہوگی۔

توقع ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کے آخری قافلے بھی غزہ سے نکل کر اسرائیل چلے جائیں گے۔

تاہم غزہ کے آس پاس کے پانیوں اور فضائی حدود کا کنٹرول اسرائیل ہی کے پاس رہے گا اور وہ یہ نگرانی کرتے رہیں گے کہ غزہ میں کون آ یا جا رہا ہے۔

انخلا سے پہلے یہودی ربائیوں کے کہنے پر اسرائیلی کابینہ نے غزہ میں بنائی گئے یہودی عبادت گاہوں کو منہدم نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کی فلسطینی رہنماؤں نے تنقید کی۔

فلسطینیوں نے اسرائیل سے کہا کہ وہ خود ان یہودی عبادت گاہوں کو مندہم کردیں ورنہ انہدام کا یہ کام انہیں ہی کرنا پڑے گا۔ فلسطینی رہنما صائب ارکات نے کہا کہ وہ ان عبادت گاہوں کو دنیا کے سامنے منہدم کر کے اپنا تاثر دنیا کے سامنے خراب نہیں کرنا چاہتے ہیں تاہم فلسطینی یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ یہودی عبات گاہوں کا تقدس پامال نہیں ہوگا۔

اسرائیل نے غزہ پر اپنے قبضہ ختم کرنے کا باقاعدہ طور پر اعلان اتوار کو کیا تھا جبکہ پیر سے فوج نے انخلا کا آغاز کردیا۔

علاقے میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن نے انخلا کے عمل کا منظر یہودی بستی کفار دفرام میں دیکھا۔ ان کے مطابق اسرائئلی ٹینکوں نے اندھیرے ہی میں غزہ سے باہر نکلنا شروع کردیا تھا۔

گزشتہ برسوں میں اس بستی ہر فلسطینی عسکریت پسندوں نے کئی بار حملے بھی کیے۔

فلسطینی اسرائیلی فوج سے نفرت کرتے ہیں اور ان کے انخلاء پر وہ بہت خوش ہیں۔ مگر غزہ میں لوگ زیادہ خوش نہیں ہیں کیوں کے اسرائیل غزہ کے ہوائی اڈے، بندر گاہوں اور سرحدوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھے گا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں اسلحے کی سمگلنگ روکنا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد