غزہ سے اسرائیلی پرچم اتر گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں پرچم اتارنے کی تقریب کے بعد اسرائیل کے آخری فوجی دستوں نے کوچ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی پرچم اتارنے کے لیے ہونے والی اس تقریب کا منظر دیکھنے کے لیے ہزاروں فلسطینی تقریب کے مقام کے گرد جمع تھے۔ ان میں ہبت سے فلسطینی اس لمحے کا انتظار کرہے ہیں جب اسرائیلی فوجی بھی غزہ کے ان حصوں سے نکلیں اور وہ کئی دہائیوں بعد ان علاقوں پر ہجوم کر سکیں۔ اسرائیلی حکومت غزہ کے فلسطینی علاقے سے اپنا اڑتیس سالہ قبضہ ختم کتنے کا اعلان پہلے ہی کر چکی ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کے غزہ سےچلے جانے کے بعد غزہ سے انخلاء کا مرحلہ مکمل ہو جائےگا۔ اسرائیلی فوج اپنے پیچھے بیس سیناگوگ یا یہودی عبادت جنہیں کنیسہ بھی کہا جاتا ہے، چھوڑ کر جا رہی ہے جو ابھی سے تنازعہ کا باعث بن گئے ہیں۔ ان عبادت گاہوں کو منہدم نہ کرنے کا فیصلہ اسرائیلی کابینہ کا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے نائب وزیر اعظم نبیل شعط نے بی بی سی کو بتایا کہ کنیسہ منہدم نہ کر کے اسرائیل ایک بہت بڑا مسئلہ پیچھے چھوڑ کر جا رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کچھ فلسطینی یہودی عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ کر سکتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ علاقے میں موجود فوجیوں کو غزہ چھوڑنے کے احکامات دیے جا چکے ہیں۔ اس اعلان کے بعد اب غزہ کا کنٹرول فلسطینی انتظامیہ کو سونپے جانے کی تقریب کے لیے راہ ہموار ہوگئی ہے اور اب اسرائیلی کابینہ کی منظوری کے بعد یہ عمل کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||