BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 September, 2005, 14:53 GMT 19:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہودی کنیسہ فلسطین کا مسئلہ
کنیسہ
فلسطینیوں کو بالکل اندازہ نہیں کہ وہ ان عمارات کا کیا کریں گے
فلسطینی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نبیل شعط نے غزہ میں کنیسہ (یہودی عبادت گاہیں) سلامت چھوڑ کر جانے کے اسرائیلی فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔

اتوار کو اسرائیلی فوجیوں کے غزہ سےچلے جانے کے بعد وہاں سے انخلاء مکمل ہو جائےگا۔

اسرائیلی فوج بیس کنیسہ غزہ میں سلامت چھوڑ کر جا رہی ہے جو تنازعہ کا باعث بن گئے ہیں۔ کنیسہ منہدم نہ کرنے کا فیصلہ اسرائیلی کابینہ کا ہے۔

فلسطینی انتظامیہ کے نائب وزیر اعظم نبیل شعط نے بی بی سی کو بتایا کہ کنیسہ منہدم نہ کر کے اسرائیل ایک بہت بڑا مسئلہ پیچھے چھوڑ کر جا رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کچھ فلسطینی یہودی عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بالکل اندازہ نہیں کہ فلسطینی ان عمارات کے ساتھ کیا کریں گے۔

اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان مارک ریگیو نے فلسطینی نائب وزیر اعظم کے جواب کے رد عمل میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ فلسطینی ان عمارات کا استعمال اور ان کے تحفظ کا بندوبست کر لیں گے۔

اس سے قبل اسرائیل نے غزہ میں اڑتیس سال بعد اپنے قبضے کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان کیا۔ توقع کی جا رہی کہ پیر کی صبح تک غزہ میں موجود تمام اسرائیلی فوجی وہاں سے نکل جائیں گے۔

فلسطینیوں نے غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے موقع پر ہونے والی تقریب کا یہ کہتے ہوئے بائیکاٹ کیا کہ غزہ پر حقیقتاً اب بھی اسرائیل کا قبضہ ہے۔ فلسطین کا کہنا ہے کہ غزہ کی فضائی اور سمندری، زمینی سرحدیں اب بھی اسرائیل کے زیر انتظام ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد