یہودی کنیسہ فلسطین کا مسئلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نبیل شعط نے غزہ میں کنیسہ (یہودی عبادت گاہیں) سلامت چھوڑ کر جانے کے اسرائیلی فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ اتوار کو اسرائیلی فوجیوں کے غزہ سےچلے جانے کے بعد وہاں سے انخلاء مکمل ہو جائےگا۔ اسرائیلی فوج بیس کنیسہ غزہ میں سلامت چھوڑ کر جا رہی ہے جو تنازعہ کا باعث بن گئے ہیں۔ کنیسہ منہدم نہ کرنے کا فیصلہ اسرائیلی کابینہ کا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے نائب وزیر اعظم نبیل شعط نے بی بی سی کو بتایا کہ کنیسہ منہدم نہ کر کے اسرائیل ایک بہت بڑا مسئلہ پیچھے چھوڑ کر جا رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کچھ فلسطینی یہودی عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بالکل اندازہ نہیں کہ فلسطینی ان عمارات کے ساتھ کیا کریں گے۔ اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان مارک ریگیو نے فلسطینی نائب وزیر اعظم کے جواب کے رد عمل میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ فلسطینی ان عمارات کا استعمال اور ان کے تحفظ کا بندوبست کر لیں گے۔ اس سے قبل اسرائیل نے غزہ میں اڑتیس سال بعد اپنے قبضے کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان کیا۔ توقع کی جا رہی کہ پیر کی صبح تک غزہ میں موجود تمام اسرائیلی فوجی وہاں سے نکل جائیں گے۔ فلسطینیوں نے غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے موقع پر ہونے والی تقریب کا یہ کہتے ہوئے بائیکاٹ کیا کہ غزہ پر حقیقتاً اب بھی اسرائیل کا قبضہ ہے۔ فلسطین کا کہنا ہے کہ غزہ کی فضائی اور سمندری، زمینی سرحدیں اب بھی اسرائیل کے زیر انتظام ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||