عرفات، موت کا سبب واضح نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرحوم فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے میڈیکل ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر ان کی موت کی بنیادی وجہ کی تشخیص کرنے میں نا کام رہے تھے ۔ امریکی روزنامہ ’نیو یارک ٹائمز‘ نے یہ میڈیکل ریکارڈ حاصل کر کے اس بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اخبار کے مطابق اس سے پتہ چلتا ہے کہ یاسر عرفات کو فالج کا دورہ پڑا تھا لیکن اس کی بنیادی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ تاہم اسرائیل کے روزنامہ ’ہا اریٹس‘ کا کہنا ہے کہ یاسر عرفات کی موت کے ممکنہ اسباب میں زہر، ایڈز، یا کوئی انفیکشن شامل ہیں۔ تاہم دونوں اخبارات کہتے ہیں کہ میڈیکل ریکارڈ کے مطابق یاسر عرفات کے ڈاکٹر ان کی موت کے سبب پر اتفاق نہیں کر سکے تھے۔ یاسر عرفات کا گیارہ نومبر سنہ دو ہزار چار میں فرانس کے ایک فوجی ہسپتال میں انتقال ہوا تھا۔ اب تک ان کے ہسپتال میں طبی علاج سے متعلق یہ تمام کاغذات ان کے خاندان والوں اور ڈاکٹروں نے جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یاسر عرفات کی موت کی وجہ ایڈز یا زہر نہیں تھا بلکہ کوئی نا معلوم انفیکشن تھا۔ اسرائیلی اخبار نے ایڈز کے ایک ماہر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ فلسطینی رہنما کی بیماری کی علامات ایڈز جیسی تھیں۔ لیکن اسی اخبار میں ایک اور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ موت کی ممکنہ وجہ زہر تھی، اور ہو سکتا ہے کہ یہ زہر بارہ اکتوبر کو یاسر عرفات کو رملہ مرکز میں ان کے رات کے کھانے میں انہیں دیا گیا ہو۔ یاسر عرفات کے تمام میڈیکل ریکارڈز اگلے ہفتے چھپنے والی ایک اسرائیلی کتاب میں شامل کیے جائیں گے۔ یاسر عرفات کی موت کے تقریباً ایک سال بعد بھی قیاس ارائیاں عام ہیں۔ بہت سے فلسطینیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے انہیں زہر دے کر ہلاک کیا تھا۔ یاسر عرفات کے بھانجے اور موجودہ فلسطینی وزیر خارجہ ناصر القدویٰ نے بھی اس سلسلے میں کہا ہے کہ طبی ریکارڈ سے یہ شک ختم نہیں ہوتا کہ فلسطینی رہنما کی موت غیر فطری تھی۔ سینئیر فلسطینی اہلکار صائب اراکات کا کہنا ہے کہ عرفات کے موت کے بارے میں قیاس ارائیاں اور افواہوں کو ختم کرنے کے لیے فرانسیسی ڈاکٹروں کو چاہیے کہ عرفات کے تمام میڈیکل ریکارڈز شائع کر دیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||