یاسر عرفات پیرس میں انتقال کر گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر میں مزاحمت اور فلسطینی قومیت علامت یاسر عرفات پیرس کے ہسپتال میں انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر پچھتر سال تھی۔ فلسطینی اہلکاروں کے مطابق ان کی میت جمعہ کو جنازے کے لیے قاہرہ لے جائی جائے جس کے بعد تدفین کے لیے انہیں رملہ لے جایا جائے گا۔ ان کے انتقال کی خبر کے ساتھ ہی غرب اردن میں فلسطینی پرچم سرنگو کردئے گئے ۔ فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی پرامن طور پر ہو۔ الیکشن کے انعقاد تک فلسطینی پارلیمنٹ کے سپیکر روحی فتوح عبوری صدر رہیں گے۔ اس سے پہلے آنے والی خبروں میں ایک فلسطینی اہلکار نے کہا ہے کہ فلسطینی رہنما کے انتقال کی خبر اب گھنٹوں کی بات محسوس ہوتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو ان کا جنازہ قاہرہ میں جمعہ کو ہو گا۔ قاہرہ سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی قیادت نے عرفات کے جنازے کے لیے مصر کی پیش کش قبول کر لی ہے اور عرفات کے جنازے کے انتظامات کو آخری شکل دینے کے لیے مصر جانے والے یاسر عرفات کے ایک قریبی ساتھی نبیل ابو رضا نے کہا ہے کہ عرفات کا جنازہ قاہرہ میں جمعہ کو ہو گا۔ جنازے کے لیے مذہبی اور فوجی دونوں طرح کی تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ جنازے میں شرکت کے لیے آنے والے عالمی رہنماؤں کے انتظامات کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جنازے میں کون کون شریک ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||