 |  یاسر عرفات |
فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ پیرس میں زیرِ علاج ان کے رہنما یاسر عرفات کی حالت مزید تشویشناک ہوگئی ہے۔ یاسر عرفات کی بگڑتی حالت کے باعث اسرائیل نے غرب اردن اور غزہ کے علاقے میں اپنی فوج کو چوکس رہنے کا حکم دیا ہے۔ یاسر عرفات کو پچھلے ہفتے فوری طبی نگہداشت کے لیے پیرس لایا گیا تھا۔ آپ یاسر عرفات کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ وہ کیسے رہنما ہیں؟ کیا ان کی غیر موجودگی فلسطینیوں کے لیے بحران کا سبب بن سکتی ہے؟ ان کے بعد فلسطینیوں کے رہنما کون ہوسکتے ہیں؟ کیا فلسطین میں امن قائم ہوسکے گا؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
کیرن جبران، واٹرلو، کینیڈا: یاسر عرفات ایک اچھے انسان ہیں اور اچھے لوگوں کی طرح ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ رہی امن کی بات تو جب تک بش صاحب کے شفقت کا ہاتھ ہے اسرائیل پر اس وقت تک دنیا میں کہیں امن نہیں ہوگا، فلسطین کیا چیز ہے۔ عفاف اظہر ٹورانٹو: یاسر عرفات ایک اچھے انسان ہیں۔ اللہ ان پر، ان کے ملک پر، اپنا رحم کرے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: یاسر عرفات، صدام حسین، پرویز مشرف۔۔۔ میں کوئی فرق نہیں دیکھتا۔ یہ سب اپنے مفادات کے لئے امریکہ کے پٹھو بنے ہوئے ہیں۔ ان سب نے اپنی اپنی قوموں کو فروخت کردیا ہے۔ یاسر حمید، مانچسٹر: یاسر عرفات نے فلسطین کے لئے جتنے کام کیے ہیں اتنے آئندہ شاید کوئی نہ کرسکے۔  | حماس مضبوط ہوگی  میرا خیال ہے کہ ایک دن بش اور شیرون یاسر عرفات کو یاد کرکے پچھتائیں گے۔ جب وہ دنیا سے چلے جائیں گے تو حماس یقینی طور پر اپنی مقنولیت اور حمایت کو مزید مستحکم بنائے گی۔  قادر، لندن |
قادر، لندن: میں تہذیب کا خیال کرتے ہوئے ہی کم از کم ایک مرتے ہوئے آدمی کی غلطیوں کو نہیں دہراؤں گا۔ تاہم میرا خیال ہے کہ ایک دن بش اور شیرون یاسر عرفات کو یاد کرکے پچھتائیں گے۔ جب وہ دنیا سے چلے جائیں گے تو حماس یقینی طور پر اپنی مقنولیت اور حمایت کو مزید مستحکم بنائے گی۔ اس کے بعد اسرائیل کو فلسطینیوں کے صرف ایک مقبول مگر سخت گیر نمائندے سے بات کرنی ہوگی۔ ہوسکتا ہے تب ہمیں جمہوریت کی یاد آئے۔ شمش اللہ درانی، کوئٹہ: ان کے بعد فلسطین میں کوئی ایسا دلیر رہنما نہیں اور ان کی موت کا ذمہ دار امریکہ ہوگا کیونکہ اسرائیل کا طرفدار ہے اور اسی نے عرفات کو عالاج کے بہانے فرانس بھیجا۔۔۔ جبران خلیل، لاہور: آپ کو رائے دینے کا فائدہ ہو تو دیں نا، آپ اپنی مرضی کی رائے ہے تو دیتے ہیں اور جو آپ کی طبیعت پر ناگوار گزرتی ہے اس کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں۔ رابرٹ، لندن: اگرچہ میری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں لیکن یاسر عرفات اور شیرون دونوں ہی پچھلی صدی کے آدمی ہیں۔ ان ماضی کے رہنماؤں کو صاف کرکے مستقبل کے نیے رہنماؤں کو مذاکرات کی میز تک لانے کی ضرورت ہے۔ حسین عبداللہ، ساؤتھ افریقہ: عرفات کا سب کچھ فلسطینیوں کے لیے آزادی کا خواب ہی تھا، وہ چار عشرے تک اسی کے ساتھ سوتے اور اسی کے ساتھ جاگتے رہے۔ یہ موت کے ہاتھ کا ایک کریہہ مذاق ہوگا کہ وہ اس خواب کے پورا ہونے سے پہلے ان سے زندگی چھین لے۔  | موسٰی کا انتظار  اسرائیل کسی اقوامِ متحدہ کی قرارداد یا خودکش حملے سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا کہ یاسر عرفات سے۔ اب تو ایرئیل شیرون سے آزادی کے لیے فلسطینیوں کو کسی موسیٰ کا ہی انتظار کرنا ہوگا۔  سید مالکِ اشتر، امریکہ |
سید مالکِ اشتر، امریکہ: یاسر عرفات ایک عظیم لیڈر ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی اپنی قوم کے لیے وقف کردی۔ اسرائیل کسی اقوامِ متحدہ کی قرارداد یا خودکش حملے سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا کہ یاسر عرفات سے۔ اب تو ایرئیل شیرون سے آزادی کے لیے فلسطینیوں کو کسی موسیٰ کا ہی انتظار کرنا ہوگا۔علی عمران شاہین، لاہور: یاسر عرفات نے اپنی لیڈری چمکانے کے لیے فلسطینی قوم کو بیچ دیا۔ ان سے فلطین کو فائدہ ہی کیا ہوا ہے کہ ان کی غیرموجودگی سے نقصان ہو۔ جو شخص غیر مسلم سے شادی کرے وہ مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ عنقا، اوسلو: وہ اب تک ایک عظیم رہنما رہے ہیں۔ اگرچہ انہیں اپنی زندگی میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوسکی لیکن انہوں نے اپنے لوگوں کی آزادی کے لیے جتنی کوششیں کیں اس کی وجہ سے ہم انہیں کبھی نہیں بھلا سکیں گے۔ خدا آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے یاسر عرفات۔ فراز قریشی، کراچی: عرفات ایک بڑے لیڈر تھے لیکن نجانے کیوں مسلمان ہمیشہ شخصیات کو پوجتے رہتے ہیں؟ آحر انہوں نے پچاس برس میں اپنا جانشین کیوں نہیں بنایا؟ کیا وہ بھی باقی مسلمان رہنماؤں کی طرح آمریت میں یقین رکھتے تھے؟ آخر ہم مقصد کب دیکھیں گے؟ مقیط اقبال، جرمنی: میرے حساب سے اور میں نے اب تک جو وہاں رہنے والوں سے سنا ہے، تو فلسطین میں موجودہ حالات کے ذمہ دار وہی ہیں۔ وہ فلسطین کی بجائے اپنے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے اردن میں کوشش کی اور جب وہ وہاں سے نکال دیئے گئے تو وہ فلسطین پہنچے اور وہاں اقتدار اور مقبولیت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہوگئے۔ پرنس، برطانیہ: عرفات پیدائشی جنگجو ہیں، وہ اپنی بیماری کے خلاف یہ جنگ بھی لڑیں گے اور لوٹ آئیں گے۔ اگر وہ اپنی زندگی پر ہونے والے پچپن حملوں سے بچ کر نکل آئے تو میری دعا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی بہتری کے لیے اس حملے سے بھی بچ نکلیں۔ مجھے تو یہی لگتا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے لیے امن حاصل کیے بغیر اپنی جان نہ جانے دیں گے۔ |