پاکستانی وفد فلسطین جائے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا ایک خیر سگالی وفد عنقریب فلسطینی علاقوں کا دورہ کرے گا۔ یہ دورہ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کی درخواست پر ہو رہا ہے۔ پاکستان سے کسی سرکاری وفد کا خطے میں تنازعہ شروع ہونے کے بعد فلسطینی علاقوں کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نعیم خان نے بتایا ہے کہ ابھی وفد کے اراکین کا تعین کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ وفد کے ارکان کو ویزے کیسے جاری ہوں گے۔ ترجمان نے اس خبر کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کہا جا رہا کہ جنرل مشرف اس یہودی تنظیم سے خطاب کرنے والے کسی بھی اسلامی ملک کے پہلے سربراہ ہوں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کا خطاب موجودہ عالمی تناظر میں مختلف مذاہب کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا کرنے کی ان کی مہم کا حصہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ صدر مشرف کے امریکی یہودی کانگریس کو خطاب کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جائےگا جب تک اسرائیل انیس سو سڑسٹھ میں حاصل کیے گئے فلسطینی علاقے واپس نہیں کر دیتا اور فلسطینی تنازعہ اقوام متحدہے کی قراردادوں کے تحت منصفانہ طور پر حل نہیں ہو جاتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||