فلسطین: حل کے لیے مشرف سے امید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اس لیے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ پرامن طور پر حل کرانے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کے روز صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کے بعد صحافیوں کے ساتھ اپنی مختصر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ انہیں پالیسیوں کی بدولت دنیا میں عزت و احترام حاصل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدر جنرل پرویز مشرف مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے ضرور اپنا کردار ادا کریں گے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان القدس الشریف کے دارالحکومت کے ساتھ فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کا خواہاں اور حامی ہے۔ انہوں نے عالمی فورمز پر مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے فلسطینی انتظامیہ کی سیاسی حمایت اور مدد جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ پاکستان اور فلسطین کے صدور نے اس موقع پر اتفاق رائے سے کہا کہ اسلام ایک عظیم مذہب ہے اور اس کا دہشت گردی جیسی لعنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ وہ بہتر حکمرانی اور دفاع و سلامتی کے شعبوں میں فلسطین کو تربیت اور تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ مہمان صدر محمود عباس نے بتایا کہ انہوں نے پاکستانی قیادت کو فلسطین کے دورے کی دعوت بھی دی ہے۔ فلسطینی صدر ایشیائی ملکوں کے اپنے پہلے دورے کے سلسلے میں جمعرات کی دوپہر اسلام آباد پہنچے اور چند گھنٹوں کے قیام کے دوران پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد دلی روانہ ہوگئے۔ فلسطینی صدر پاکستان میں تو چند گھنٹے رہے لیکن بھارت میں دو روز تک قیام کریں گے۔ ہوائی اڈے پر پاکستان کے وزیرِ اطلاعات شیخ رشید احمد نے ان کا استقبال کیا جبکہ ایوان صدر پہنچنے پر انہیں سلامی دی گئی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس موقع پر وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے اراکین اور فوجی قیادت سے اپنے ہم منصب مہمان کا تعارف کروایا۔ واضح رہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے حال ہی میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ فلسطینی صدر کے تفصیلی مذاکرات جمعہ کے روز ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ بھارتی قیادت سے مذاکرات میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے علاوہ فلسطینی علاقوں میں جاری بھارتی ٹیلی مواصلاتی منصوبے بھی گفتگو کے اہم موضوعات ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||