اسرائیلی قبضے کا باقاعدہ خاتمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی حکومت نے فلسطینی علاقے غزہ سے اپنے اڑتیس سالہ قبضے کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ علاقے میں موجود فوجیوں کو نکل جانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔غزہ پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا فیصلہ اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں اتفاق رائے سے کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد اب غزہ کا کنٹرول فلسطینی انتظامیہ کو سونپے جانے کی تقریب کے لیے راہ بالکل ہموار ہوگئی ہے اور اب اسرائیلی کابینہ کی منظوری کے بعد یہ عمل کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے۔ کابینہ نے غزہ کی مصر سے ملنے والی سرحد پر تعینات فوجیوں کو بھی واپس بلا لیا ہے تاکہ مصری سکیورٹی اہلکار وہاں ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔ سرحد سے اسرائیلی فوج کی واپسی کے بعد مصر نے اپنے دو سو فوجیوں کو سرحدی علاقے میں ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے بھیج دیا ہے۔ مصری حکام کے مطابق یہ فوجی اسلحہ کی سمگلنگ اور غیر قانونی آمد ورفت کی روک تھام کریں گے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے میں مزید 550 فوجی اس علاقے میں تعینات کیے جائیں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت اسرائیلی کابینہ کے لیے جو فیصلہ مشکل ثابت ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا غزہ میں موجود دو درجن سے زائد یہودی عبادت گاہوں کو مکمل انخلاء سے قبل گرا دیا جائے یا نہیں۔ یہودی مذہبی رہنماؤں نے ان عبادت گاہوں کو منہدم نہ کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ایک یہودی حکومت کی جانب سے سائناگوگ کا گرایا جانا ان عمارتوں کی بے حرمتی ہو گی۔ لیکن ان عبادت گاہوں کو منہدم کرنے والے گروہ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے ہاتھوں ان سائناگوگز کا انہدام زیادہ تکلیف دہ منظر ہوگا۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ’ وہ ’قبضے کی نشانیوں‘ کی حفاظت نہیں کر سکیں گے‘۔ انہوں نے اسرائیلی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان عبادت گاہوں کو منہدم کر دیں۔ اگر اسرائیلی کابینہ نے انہدام کی اجازت دے دی تو آخری اسرائیلی فوجی ان عبادت گاہوں کو گرانے کے بعد پیر سے غزہ کا علاقہ خالی کرنا شروع کر دیں گے۔ اسرائیل غزہ سے یہودی آبادکاروں کو پہلے ہی نکال چکا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||