BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 January, 2006, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیرون: فلسطینیوں کا ملاجلا ردعمل
شیرون ردعمل
شیرون کی علالت پر فلسطینیوں کا ردعمل
اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون کی بیماری کی خبر پر فلسطین میں لوگوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ان کی علالت کی خبر پر بعض لوگوں نے خوشی تو بعض نے فکرمندی کا اظہار کیا۔

فلسطینی رہنما محمود عباس نے ان کی علالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے جنوری کے فلسطینی انتخابات پر اثر نہیں پڑے گا۔

کچھ افراد نے شیرون کے غزہ اور غرب اردن کے کچھ حصوں سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے فیصلے پر ان کے لیے نرم الفاظ استعمال کیے تاہم بہت سے افراد کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردرانہ جذبات میں کمی تھی۔ شیرون کو عام طور پر عرب دنیا میں ایک قابل نفرت شحضیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ چند ہی افراد ایسے ملے جنہوں نے شیرون کے صحیت یاب ہونے کی توقع ظاہر کی۔

ایک شخص کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم کے مرنے کی خبر کے انتظار میں ہیں جبکہ دوسرے کا کہنا تھا کہ ان کے پاس 77 سالہ بیمار شیرون کے لیے یہی ایک پیغام ہے کہ’جاؤ شیرون، چلے جاؤ‘۔

رفاہ کے مہاجرین کیمپ میں بچوں نے ان کی بیماری کی خبر پر دوسرے بچوں میں مٹھائی تقسیم کی۔

شیرون کو عرب دنیا میں قابل نفرت شخص کے طور پر جانا جاتا ہے

فلسطین میں مزاحمتی گروہ حماس نے شیرون کو دنیا کے بدترین رہنما کے الفاظ سے یاد کیا۔ ان کے ایک ترحمان کے مطابق ان کے بغیرخطہ زیادہ بہتر حالت میں ہوگا۔

ان تمام باتوں کے باوجود فلسطین کے وزیراعظم احمد قریع نے کہا کہ فلسطینی شیرون کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔

فلسطین کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ صائب ارکات نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں شیرون کی بیماری کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غیر حاضری سے امن کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

فلسطین کے ایک اور رہنما نیبل شات نے کہا کہ شیرون کی بیماری سے امن کے عمل کو جاری رکھنے کے حوالے سے ایک بے یقینی کی سی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

فلسطین کے ایک وزیرگھسان خطیب نے کہا کہ ’مشرق وسطی کے رہنماؤں میں سے شیرون ایک انتہائی اہم رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ان کی غیر موجودگی سیاسی عمل کاایک اہم واقعہ ہے‘۔

فلسطینی پارلیمنٹ کی ایک سینئر رکن حنان اشروی کا کہناتھا کہ اسرائیلی سیاسی منظر نامے سے شیرون کے ہٹنے سے قدامت پسندانہ رحجانات میں اضافہ ہو گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد اسرائیلی سیاست میں قدامت پسندانہ رحجانات کاسلسلہ شروع ہو جائےگا۔

ایریئل شیرونایریئل شیرون
اسرائیلی رہنما نے جو بھی چاہا وہ کیا
ایہود اولمرت ایہود اولمرت کون؟
قائم مقام وزیراعظم، شیرون کے ’جانشین‘
اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون شیرون اور فلسطینی
کیا شیرون کے بعد امن کاعمل جاری رہ سکے گا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد