’فلسطینیوں کو ڈھال نہ بنایا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے سپریم کورٹ نے فوج کے چھاپوں کےدوران فلسطینی باشندوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اسرائیلی چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فوج اپنے مقصد کے لیے شہریوں کو استعمال نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ آپ فوج کے عسکری مقاصد کے لیےشہری آبادی کا استحصال نہیں کر سکتے اور نہ ہی شہریوں کو زبردستی تعاون پر مجبور کیا جا سکتا ہے‘۔ چیف جسٹس نے شہریوں کو آپریشن کے دوران فوجیوں کے آگے رکھنے اور انہیں فوج کے’ قبل از وقت وارننگ‘ طریقۂ کار میں استعمال کرنے پر پابندی لگائی۔ اس طریقۂ کار کے تحت اسرائیلی فوج مقامی فلسطینیوں کو مشتبہ شدت پسندوں کو پناہ گاہوں سے نکالنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ عدالت نے سنہ 2002 میں اس عمل کے خلاف ایک عارضی فیصلہ اس وقت دیا تھا جب ایک شدت پسند کے خلاف کارروائی کے دوران بطور ڈھال استعمال کیے جانے والا فلسطینی لڑکا ہلاک ہو گیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے اس عمل کے مخالف حقوقِ انسانی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ فوج نے متعدد بار اس عارضی پابندی کی بھی خلاف ورزی کر چکی ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||