فلسطین: جنگ بندی توڑنے کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی شدت پسند گروہ الاقصٰی بریگیڈ کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ اسرائیل کے تازہ حملوں میں تین فلسطینیوں کے مارے جانے کے بعد وہ جنگ بندی کے معاہدے کی مزید پاسداری نہیں کریں گے۔ زکریا زبیدی کا کہنا تھا کہ ’ ہمارا جواب لامحدود ہوگا کیونکہ ہمیں اپنے لوگوں کی حفاظت کرنی ہے‘۔ مسٹر زبیدی الاقصٰی بریگیڈ کے جنین میں موجود گروہ کے ترجمان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ صیہونی دشمن صرف گولیوں کی زبان سمجھتا ہے۔ ہم نے اپنے آپ سے جنگ بندی کا عہد کیا تھا لیکن ہمارا دشمن اس جنگ بندی پر عمل پیرا نہیں‘۔ جنین میں ہی اس گروہ کے ایک کمانڈر ثمر سعدی کو رات گئے ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ ہلاک ہونے والے دیگر دو افراد کا تعلق اسلامک جہاد سے تھا اور انہیں برقین کے علاقے میں ہلاک کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ثمر سعدی اور دیگر دو شدت پسندوں کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب انہوں نے اسرائیلی فوجیوں پر گولی چلائی۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتے ہونے والے راکٹ حملوں کے بعد سے اب تک مغربی کنارے سے قریباً چار سو فلسطینی باشندوں کو گرفتار کیا ہے۔ ادھر مغربی کنارے کے فلسطینی باشندے غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے بعد پہلی مرتبہ مقامی انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ یہ انتخابات فلسطینی تنظیم حماس کا امتحان تصور کیے جا رہے ہیں۔ غزہ سے اسرائیلوں کے انخلاء کے سلسلے میں جہاں حماس کی تعریف کی جا رہی ہے وہیں اس پر تشدد کی حالیہ لہر کے آغاز کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||