اسرائیلی کارروائی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی شدت پسند گروہ حماس کے راکٹ حملوں کو بند کرنے کے اعلان کے بعد بھی اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے کہ جہاں ہتھیار فلسطینی شدت پسندوں کی جانب سے درجنوں راکٹ حملوں کے بعد حماس نے راکٹ نہ پھینکنے کا اعلان کیا۔ اسرائیل کے غزہ سے نکل جانے کے بعد راکٹ حملوں کے یہ واقعات پیش آئے ہیں۔ دریں اثناء شیرون کو ان دنوں قیادت کے چیلنج کا سامنا ہے۔ لیکوڈ پارٹی قیادت کے سلسلے میں پیر کو ووٹنگ کر رہی ہے کہ آیا شیرون کے حریف اور سابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو دوبارہ واپس لے آیا جائے۔ غزہ سے اسرائیل کے انخلاء کے بعد شیرون کی وزیراعظم شپ پر اسے ایک ریفرنڈم تصور کیا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے شیرون کےاس فیصلے کی مخالفت کی تھی کہ اسرائیل غزہ کا علاقہ خالی کردے کیونکہ ان کے خیال میں اس سے اسلامی شدت پسند اسرائیل پر حملہ کر دیں گے۔ فلسطینی عینی شاہدین نے ان تازہ حملوں کے بارے میں بتایا کہ غزہ پر اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے دو میزائل داغے جس کا ہدف مشرقی اضلاع بنے۔ میزائل خان یونس کی شمالی آبادی پر گرے جس سے ایک عمارت تباہ ہو گئی جس کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ عمارت پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف پلیسٹائن (آزادی کے حامی فلسطینی دھڑے) کےشدت پسندوں کے استعمال میں تھی۔ ایک میزائل رفاہ کی شمالی سرحد کے قریب ایک میدان میں گرا۔
اسرائیل کی فوج کے مطابق ایک میزائل سے جنوبی پٹی میں فلسطین کے اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اب فلسطینی اتھارٹی پر ہے کہ وہ شدت پسندوں کو لگام ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ اب اسرائیل فلسطینی اتھارٹی سے امید کرتا ہے کہ وہ غیر قانونی ہتھیار ضبط کرے۔ ترجمان نے کہا کہ اتھارٹی کے پاس تیس ہزار فوجی دستے موجود ہیں لیکن وہ اس قسم کے راکٹ حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ حماس کے رہنما محمود ظہر نے راکٹ حملوں کے بند کرنے کے اعلان کے بعد کہا کہ تنظیم جنگ بندی کے فیصلے پر قائم ہے جس کا شدت پسندوں نے اس سال کے آغاز میں اعلان کیا تھا۔ ان کا کہناہے کہ راکٹ حملوں کوبند کرنے کا مقصد فلسطینیوں کو ’یہودی غضب‘ سے بچانا ہے۔ فلسطین کے رہنما اور مصری ثالثوں نےحماس پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ حملوں کو روک دے۔ اتوار کو سرائیل کے ایک فضائی حملے میں اسلامک جہاد نامی تنظیم کے دو ارکان ہلاک ہوئے تھے جن میں ایک کمانڈر محمد خلیل بھی شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||