اسرائیلی حملے کی عالمی مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے سرغنا کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے اور اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر اوزی لینڈاؤ کا کہنا ہےکہ اس طرح کے حملے جاری رہیں گے۔ دوسری طرف اسرائیل کے اقوامِ متحدہ میں سفیر ڈین گِلرمین نے رنتیسی کی موت کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ ’اس شخص کی موت، یہ حقیقت کہ وہ ہم میں نہیں ہے، آزادی کو پسند کرنے والی دنیا کے لئے ایک اچھی خبر ہے‘۔ فلسطین کے وزیرِ اعظم احمد قریع نے کہا ہے کہ ’فلسطینی کابینہ سمجھتی ہے کہ اسرائیل کی دہشت گرد مہم امریکی حوصلہ افزائی اور اسرائیل کی طرف امریکی انتظامیہ کے جھکاؤ اور تعصب کا براہِ راست نتیجہ ہے‘۔ امریکہ نے ابھی تک اس حملے کی مذمت نہیں کی ہے تاہم وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل اس کے ردِ عمل کے لئے تیار رہے۔ ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کو دہشت گرد حملوں سے بچنے کے لئے اپنا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ فلسطین کو چاہیئے کہ شدت پسندوں کے حملوں کو روکنے کے لئے مزید اقدامات کرے۔
برطانیہ کے وزیرِ خارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ ’برطانوی حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس طرح نشانے بنا کر ہلاک کرنا غیر قانونی ہے، بلاجواز ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں‘۔ یورپ کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاوئیر سولانا کے مطابق یورپی اتحاد نے ہمیشہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔ ’اسرائیل کو حق ہے کہ دہشت گرد حملوں سے اپنے شہریوں کی حفاظت کرے لیکن اس طرح کے عمل غیر قانونی ہیں اور ان سے تناؤ میں کمی نہیں ہو گی‘۔ عرب لیگ کے ترجمان حسام زکی نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’یہ ریاستی دہشت گردی ہے اور یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اسرائیل استحکام کی فضا میں نہیں رہا سکتا۔وہ نہیں چاہتے کہ استحکام کی فضا رہے۔وہ تناؤ اور تشدد کی فضا چاہتے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||