یروشلم: فلسطینی ووٹ ڈال سکیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم کے عرب باشندوں کو پچیس جنوری کو ہونے والے فلسطینی انتخابات میں حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم میں اس شرط پر انتخابی مہم چلانے کی اجازت دے دی تھی کہ وہ یہ مہم اسرائیلی پولیس کی اجازت کے بعد چلائیں۔ تاہم اسرائیلی حکام نے کہا تھا کہ وہ حماس کو اس علاقے میں سیاست کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسرائیلی حکومت نے قبل ازیں ان انتخابات میں حماس کے برسرِ اقتدار آنے کے خدشے کے پیشِ نظر دھمکی دی تھی کہ وہ اس علاقے میں ووٹنگ نہیں ہونے دے گی تاہم اب اس کا کہنا ہے کہ فلسطینی اسرائیلی ڈاکخانوں میں ووٹ ڈال سکیں گے۔
وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ اسرائیل اس سلسلے میں وہی پالیسی اختیار کرے گا جو اس نے سنہ 1996 کے انتخابات میں اپنائی تھی جب مشرقی یروشلم کی عرب آبادی کو پانچ مقامی ڈاکخانوں میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تھی‘۔ اسرائیل کی جانب سے اس بات کا اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب امریکی نائب وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ویلش اور قومی سلامتی کے نائب مشیر ایلیٹ ابرامز خطے کا دورہ کرنے والے ہیں۔ پیر کو امریکی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ دونوں افسران اسرائیلی اور فلسطینی حکام سے انتخابات کے سلسلے میں بات چیت کریں گے۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے بھی پیر کو کہا تھا کہ انہیں امریکی صدر بش نے ذاتی طور پر یقین دہانی کروائی ہے کہ مشرقی یروشلم کے عربوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||