اسرائیل: فلسطینی ووٹ ڈال سکیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی کابینہ نے مشرقی یروشلم میں رہنے والے فلسطینیوں کو پچیس جنوری کو ہونے والے فلسطینی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی ہے۔ فلسطین میں ہونے والے انتخابات میں شدت پسند تنظیم حماس کے حصہ لینے پر بطور احتجاج اسرائیل نے اس علاقے میں ووٹنگ روک دینے کی دھمکی دی تھی۔ اس اجازت کے باوجود اپنی مخالفت کے اظہار کے لیے وزراء نے حماس کے امیدواروں پر شرائط عائد کی ہیں۔ حماس کے امیدواروں کے نام اس علاقے میں تقسیم کیے جانے والے بیلٹ پیپرز میں شامل نہیں ہوں گے۔ فلسطین کے رہنما محمود عباس نے اسرائیل کی جانب سے ووٹنگ روکنے کے جواب میں کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے اس علاقے میں ووٹنگ پر پابندی لگائی تو وہ یہ انتخابات ملتوی کردیں گے۔ مشرقی یروشلم میں رہنے والے فلسطینی قلیل تعداد میں قائم ڈاک خانوں میں جاکر ووٹ ڈالیں گے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے اسی طریقے سے ووٹ ڈالے تھے۔ دریں اثناء اسرائیل فوج نے غرب اردن کے علاقے نابلس میں ایک فلسطینی اور اس کی ماں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ فوج کا اس واقعے کے حوالے سے کہنا ہے کہ روجب گاؤں میں اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کی گئی تو جوابی کارروائی میں انہوں نے بھی فائر کھول دیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے وقت ہلاک ہونے والا پچیس سالہ شخص اپنی گاڑی کے قریب رائفل کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس نے رائفل اس لیے اٹھائی ہوئی تھی کیونکہ اس کے خاندان کا چند دن قبل پڑوسیوں سے جھگڑا ہوا تھا۔ اس بارے میں بھی متضاد اطلاعات ہیں کہ پہلے گولی کس نے چلائی۔ اس کارروائی میں اس شخص کی والدہ بھی جو گولیوں کی آواز سن کر گھر سے باہر نکلی تھی، زد میں آکر ہلاک ہوگئی۔ فائرنگ میں اس خاندان کے دو اور افراد زخمی بھی ہو گئے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||