فلسطینی انتخابات کے اہم مسائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین میں پچیس جنوری کو ہونے والے انتخابات ممکنہ التوا، تشدد اور حماس کی شمولیت پر امریکہ اور یورپ کے اعتراضات کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ انتخابات فتح پارٹی کی نوجوان قیادت کی جانب سے امیدواروں کی متبادل فہرست کی فراہمی اور اسرائیل کے یروشلم میں الیکشن نہ کروانے کے فیصلے کی وجہ سے بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ اگرچہ فلسطینی نیشنل اتھارٹی نے انتخابات وقت پر کروانے کے عزم کا اظہار کیا ہے لیکن فلسطین میں بہت سے حلقوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں جس کی وجوہات میں الیکشن کمیشن کے ہیڈکواٹر پر حملہ، اسرائیل سے تعلقات میں کشیدگی اور امریکہ اور یورپ کی حماس کے جیتنے کی صورت میں امداد بند کرنے کی دھمکی شامل ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ان تمام مسائل کے باوجود انتخابات وقت پر کروانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ فتح پارٹی کو متحد کر کے متفقہ فہرست پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ ’میں انتخابات صرف اس صورت میں ملتوی کروں گا کہ اگر اسرائیل نے یروشلم میں انتخابات نہ کروانے دیے‘۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر اسرائیل نے مشرقی یروشلم کے فلسطینیوں کو انتخابات میں حصہ نہ لینے دیا تو اس صورت میں انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ مشرقی یروشلم کے لوگوں کو صرف قریبی دیہات میں جا کر ووٹ ڈالنے کی اجازت ہو گی لیکن شہر میں ان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ فلسطینی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مصر کے خفیہ ادارے کے سربراہ عمر سلیمان کا فلسطینی علاقوں کا اکیس دسمبر کا دورہ فتح پارٹی میں اختلافات ختم کروانے کے لیے تھا جبکہ دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دورہ حماس کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے تھا کہ وہ فتح میں اختلافات کے خاتمے تک انتخابات ملتوی کرنے پر رضامند ہو جائے۔ انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ساتھ تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ فتح پارٹی کے عسکری گروپ الاقصٰی بریگیڈ نے الیکشن کمیشن اور فتح پارٹی کے دفاتر کے باہر امیدواروں کی فہرستوں پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امیدواروں کی نامزدگی کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے کئی بدعنوان ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ پارٹی کے اندر انتخابات مکمل ہونے تک مقننہ کے انتخابات ملتوی کروانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ فلسطینی ذرائع کا خیال ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملے بھی انتخابات کے التوا کی کوشش ہے۔ فتح پارٹی کے اندر امیدواروں کے انتخاب پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آگئے جب مروان برغوتی نے امیدواروں کی متبادل فہرست پیش کر دی اور اس طرح حماس کی جیت کے امکانات میں اضافہ کر دیا۔ برغوتی اس وقت قتل کے الزام میں پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں لیکن وہ اب بھی فلسطین کے مقبول ترین لیڈروں میں سے ہیں۔ محمود عباس کی کوشش ہے کہ دونوں فہرستوں میں اختلافات ختم کیے جائیں۔ برغوتی بائیس دسمبر کو صدر محمود عباس سے ملے تھے اور اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں برغوتی کی سربراہی میں متفقہ فہرست پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایک فلسطینی اخبار نے مطابق حماس کی جیت کی صورت میں امریکہ اور یورپ کی امداد بند کرنے کی دھمکی کو فلسطین کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور فلسطین کے لوگوں پر اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ حماس نے امداد بند کرنے کی اس دھمکی کو ’بلیک میلنگ‘ قرار دیا ہے اور اسے فلسطینی لوگوں کی خود مختاری پر ضرب کہا ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ نے بھی اس بیان کی مذمت کی ہے فتح پارٹی نے اپنی بائیس دسمبر کی میٹنگ میں انتخابات کو مقررہ وقت پر کروانے کا فیصلہ کیا ہے اور حماس کے متعلق اس بیان کو رد کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||