فلسطین میں دس سال بعد ووٹنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین میں دس سال کے تعطل کے بعد قانون ساز مجلس کےانتخابات کے لیے ووٹنگ شروع ہوگئی ہے۔ فتح پارٹی کو مزاحمت پسند فلسطینی گروہ حماس کی جانب سے شدید مقابلے کا سامنا ہے۔ ان انتخابات میں حماس نے پہلی مرتبہ اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ ووٹنگ کےدوران سکیورٹی کے سخت انتطامات کیے گئے ہیں۔ حماس کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے سے اسرائیل، امریکہ اور یورپ میں سخت تشویش پائی جاتی ہے جہاں اس پر شدت تنظیم ہونے کے الزامات میں پابندی عائد ہے۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے لوگوں کو اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی تلقین کرتے ہوئے سکیورٹی حکام سے کہا ہے کہ وہ پولنگ کے درمیان امن قائم رکھنے کے لیے مستعد رہیں۔ رملہ اللہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بہت سےفلسطینیوں کا خیال ہے کہ فتح اسرائیل کے ساتھ امن کے قیام اور فلسطینی علاقوں کی اقتصادی حالت بہتر بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ فلسطینیوں کا خیال ہے فتح پارٹی نے اپنی نااہلی ور بدعنوانیوں کے باعث معیشت کو تباہ کر دیا۔ ہزاروں فلسطینیوں کو بیلٹ بکسوں کی حفاظت پر معمور کیا گیا ہے۔ حریف شدت پسندوں نے ووٹنگ کے دوران امن قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ | اسی بارے میں ’فلسطینیوں کو ڈھال نہ بنایا جائے‘06 October, 2005 | آس پاس فلسطین: انتخابی قوانین اور شیڈول05 January, 2006 | آس پاس شیرون: فلسطینیوں کا ملاجلا ردعمل06 January, 2006 | آس پاس یروشلم: فلسطینیوں کومشروط اجازت09 January, 2006 | آس پاس یروشلم: فلسطینی ووٹ ڈال سکیں گے10 January, 2006 | آس پاس اسرائیل: فلسطینی ووٹ ڈال سکیں گے15 January, 2006 | آس پاس فلسطین میں دس سال بعد ووٹنگ 25 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||