’اسرائیلی سرحدوں کا تعین ضروری ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے قائم مقام وزیراعظم ایہود اولمرت نے گزشتہ سال غزا سے اسرائیلی انخلا کو ایک تاریخی موڑ قراد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو مزید فلسطینی علاقوں کو خالی کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایہوداولمرت کی نے اپنی پہلی پالیسی تقریر میں کہا ہے اسرائیل کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ملک کی سرحدوں کا تعین کرنا ہے جس سے یہودیوں کی اکثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں یہودیوں کی اکثریت نہیں ان علاقوں کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل سکیورٹی زونز، یہودی بستیوں اور یروشلم جیسے ان مقامات کا جو یہودیوں کے لیے مقدس ہیں کنٹرول نہیں چھوڑے گا۔ اولمرت ’قدیما‘ پارٹی کے بھی قائم مقام صدر ہیں جو ایرئیل شیرون نے علیل ہونے سے پہلے بنائی تھی۔ قدیما پارٹی اس سال اٹھائیس مارچ کو ہونے والے انتخابات میں فلسطینی علاقے خالی کرانے کے معاملے کو لے کر انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہے۔
اولمرت نے کہا ہے کہ یروشلم کے بغیر اسرائیلی ریاست کا وجود ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت سے اسرائیل کی سرحدوں کا تعین ممکن نہیں ہوا تو اسرائیل اپنے طور پر اپنی سرحدیوں کا تعین کرے گا۔ انہوں نے اس تقریر میں امریکہ کے نقشہ راہ پر پورے طور پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ فلسطینیوں نے اپنے ردعمل میں اسرائیل کی یک طرفہ پالیسوں کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صائب ارکات نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی امن کے نقشہ راہ پر پوری طرح عملدرآمد کرنے کے حق میں۔ تاہم یہودی بستیوں کے حامیوں نے مغربی کنارے سے مزید اسرائیلی فوج کے نکالنے پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اولمرت کا بیان شیروں کے بیانات کے عکاس ہیں جو انہوں نے بیماری سے پہلے دیے تھے۔ | اسی بارے میں ایہود اولمرت: ایریئل شیرون کے ’جانشین‘05 January, 2006 | آس پاس اسرائیل: فلسطینی ووٹ ڈال سکیں گے15 January, 2006 | آس پاس اسرائیل: شیرون کے بعد کیا ہوگا؟05 January, 2006 | آس پاس ’اسرائیلی انتخابات 28 مارچ کو‘ 23 November, 2005 | آس پاس اسرائیلی انتخابات فروری میں 17 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||